خیبر ایجنسی میں آپریشن جاری، دھماکے میں’دو فوجی ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں افغان سرحد سے متصل وادی راجگل میں ہونے والے بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پشاور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اسی علاقے میں پیش آیا ہے جہاں منگل کو پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

٭ راجگل میں آپریشن کا آغاز، 14 شدت پسند ہلاک

٭ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی قائم

سرکاری ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران سکیورٹی اہلکار ایک مورچے سے دوسرے مورچے میں جا رہے تھے کہ بارودی سرنگ کا نشانہ بنے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں دو فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے منگل کی صبح خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ کی وادی راجگُل میں آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اعلان میں بتایا گیا تھا کہ اس آپریشن کا مقصد خیبر ایجنسی کے بلند و بالا پہاڑی علاقوں اور ہر موسم میں استعمال ہونے والے دروں میں شدت پسندوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے۔

پیغام میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس آپریشن کے دوران خیبر ایجنسی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں تعینات فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اس اعلان کے چند گھنٹے بعد آئی ایس پی آر نے شدت پسندوں کے نو ٹھکانوں کو فضائی حملوں اور زمینی آپریشن کے دوران تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس کے علاوہ آپریشن کے دوران 14 شدت پسندوں کی ہلاکت اور 11 کو زخمی کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا۔

گذشتہ ہفتے کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں ہونے والے خودکش حملے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی جانی نقصان کے بعد فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ملک بھر میں ’کومبنگ آپریشن‘ کا حکم دیا تھا جس کے بعد قبائلی علاقوں سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔

وادی راجگل میں آپریشن ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق راجگل ایک دشوار گزار سرحدی علاقہ ہے جس کا بڑا حصہ گھنے جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ اس کی سرحد افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ملتی ہے اور اس علاقے میں کوکی خیل قبائل آباد ہیں۔

اس دور افتادہ علاقے میں کئی شدت پسند تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں جن میں لشکرِ اسلام، تحریکِ طالبان پاکستان اور دوسری تنظیمیں شامل ہیں جن کے ارکان علاقے کے جغرافیے سے فائدہ اٹھا کر آسانی سے سرحد کے پار آتے جاتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں