’آپریشن راجگل کیا آخری معرکہ ہوگا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راجگال میں فوجی آپریشن منگل کو شروع کیا گیا اور پہلے روز شدت پسندوں کے نو ٹھکانے اور اسلحے کے ڈپو تباہ کیے گئے

پاکستان کی سکیورٹی افواج نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف ایک مشکل اور بڑے معرکے کا آغاز کیا ہے اور اس مرتبہ یہ علاقہ راجگل کا ہے۔

مبصرین کے مطابق خیبر ایجنسی کے اس مشکل ترین علاقے میں فوجی آپریشن کا مقصد شدت پسندوں کے افغانستان سے پاکستان میں داخلے کو روکنا ہے۔

٭ خیبر ایجنسی میں آپریشن جاری، دھماکے میں’دو فوجی ہلاک‘

٭ خیبر ایجنسی: ’فوجی کارروائی میں 14 دہشت گرد ہلاک‘

٭ شدت پسندوں کو روکنے کے لیے افغان سرحد پر مزید فوج تعینات

راجگل پاکستان کے قبائلی علاقےخیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کا حصہ ہے۔

اس پہاڑی علاقے میں گھنے جنگلات ہیں اور یہ خیبر ایجنسی کا ایک خوبصورت علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

وادی تیراہ وسیع رقبے پر محیط ہے اس کی سرحدیں مشرق میں پشاور سے اور مغرب میں افغانستان کے صوبہ ننگر ہار سے ملتی ہیں۔

اسی طرح جنوب میں اورکزئی ایجنسی جبکہ جنوب مغرب میں کرم ایجنسی واقع ہے۔

خیبر ایجنسی کی طویل سرحد افغانستان سے ملتی ہے اور راجگل کا علاقہ بھی پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔

راجگل میں فوجی آپریشن منگل کو شروع کیا گیا اور پہلے روز شدت پسندوں کے نو ٹھکانے اور اسلحے کے ڈپو تباہ کیے گئے۔

راجگل کا یہ علاقہ سکیورٹی افواج کے کیے کتنا مشکل ہے اور اس محاذ کا انتخاب آخر میں کیوں کیا گیا ہے اس بارے میں عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید نذیر نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ٹو بڑے آپریشن تھے اور وہاں فوج کی بڑی تعداد تعینات تھی اس لیے راجگل میں آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس آپریشن سے ان علاقوں میں روپوش شدت پسندوں کا صفایا کرنا اور سرحد کو محفوظ بنانا ہے تاکہ شدت پسند خفیہ راستوں سے پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں۔

Image caption خیبر ایجنسی کی طویل سرحد افغانستان سے ملتی ہے اور راجگال کا علاقہ بھی پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے

بریگیڈیر ریٹائرڈ سید نذیر کا کہنا تھا کہ راجگل شمالی وزیرستان کے علاقے شوال سے مماثلت تو رکھتا ہے لیکن راجگل اس لیے بھی مختلف ہے کہ یہاں سے فرار کے مختلف راستے ہیں اور اس کے علاوہ افغانستان میں تورہ بورہ جیسے اہم علاقے بھی زیادہ دور نہیں ہے۔

بنیادی طور پر یہ علاقہ خیبر ایجنسی کے بڑے قبیلے کوکی خیل کا ہے لیکن اس آپریشن سے کافی پہلے یہاں سے لوگ جمرود اور دیگر علاقوں کو منتقل ہو چکے تھے۔

خیبر ایجنسی کے مقامی صحافی ولی خان شنواری کا کہنا ہے کہ راجگل دور دراز اور پسماندہ علاقہ ہے لیکن قدرتی طور پر انتہائی خوبصورت علاقہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ تیراہ کے مختلف علاقے خیبر باہ، ستار کلے اور راجگل میں سکیورٹی افواج کی کارروائیاں جاری ہیں لیکن ان علاقوں میں مواصلات کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے آزاد ذرائع سے معلومات موصول نہیں ہو رہیں۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید نذیر کے مطابق راجگل اور دیگر ملحقہ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے ارکان روپوش ہیں جن میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے علاوہ لشکر اسلام شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ راجگل کا علاقہ اونچائی پر ہے اور اسی لیے یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے جب کہ سردیوں کے شروع میں یہاں دھند بہت ہوتی ہے اس لیے سکیورٹی افواج کو یہ آپریشن دو مہینوں کے اندر اندر مکمل کرنا ہوگا۔

سکیورٹی افواج اب تک باڑہ اور تیراہ کے دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن مکمل کر چکی ہیں اور بڑے علاقے کو شدت پسندوں سے صاف قرار دے دیا گیا ہے ۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ راجگل کا یہ آپریشن کیا ضرب عضب اور خیبر ٹو کا آخری معرکہ ہوگا یا یہ آپریشن پاک افغان سرحد پر واقع دیگر علاقوں کو بھی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اسی بارے میں