’وزیراعظم اکیلے ہی قانون منظور کریں گے تو وہ کالعدم‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’اگر وزیراعظم اکیلے کوئی بھی قانون منظور کریں گے تو وہ کالعدم ہی تصور ہوگا‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ٹیکسٹائل مصنوعات اور موبائل فون پر لگائے گئے لیوی ٹیکس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کابینہ کے مشاورت کے بغیر مالیاتی اُمور پر فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آئین میں وفاقی حکومت کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے مراد وزیراعظم اور وفاقی کابینہ ہے۔

* دو کھرب کے نئے ٹیکس، سگریٹ، فون، مشروبات مہنگے

* ’حکومت ٹیکس لگائے یا چیزیں مہنگی کرے‘

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی امور سے متعلق وزیراعظم وفاقی کابینہ کی پیشگی منظوری اور اس پر غورو خوض کے بعد بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے مجاذ ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ اگر کوئی آرڈیننس بھی جاری کرنا ہے تو اس کو بھی وفاقی کابینہ کی پیشگی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر وزیراعظم اگر کسی مالیاتی امر پر اکیلے کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو وہ کالعدم ہی تصور ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ وزیراعظم یا اکیلے وفاقی وزیر وفاقی حکومت کا درجہ نہیں رکھتے‘

اس فیصلے میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ ملکی آئین میں دیے گئے رولز آف بزنس کی پاسداری کی جائے جس کے مطابق وزیراعظم یا اکیلے وفاقی وزیر وفاقی حکومت کا درجہ نہیں رکھتے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ڈپٹی سیکریٹری کی طرف سے ان مصنوعات پر لیوی ٹیکس عائد کرنے سے متعلق جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس کی وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ سے پیشگی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

واضح رہے کہ لیویز ٹیکس کے خلاف مختلف کمپنیز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں جنھیں مسترد کردیا گیا تھا جس کے بعد ان کمپنیز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ان درخواستوں کی سماعت میں عدالتی معاون اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی ظفر نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کے رولز آف بزنس اور اختیارات سے متعلق ایک طریقہ کار وضح کردیا گیا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بیوورکریٹ اپنے طور پر یا متعقلہ وفاقی وزیر کے حکم پر کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کر سکے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کے لیے مالیاتی امور پر غورو خوض کے علاوہ وفاقی کابینہ کی پیشگی اجازت ضروری ہے۔

اسی بارے میں