’دنیا کے ضمیر کے لیے ایک اور چیلنج‘

تصویر کے کاپی رائٹ AMC
Image caption عُمران کو ایک فضائی حملے کے بعد ملبے کے نیچے سے زندہ نکال کر ایمبولینس میں بٹھایا گیا جہاں یہ تصویر لی گئی۔

سوشلستان میں جمعے کا مبارک دن ہے اور انٹریکٹویٹی اور سوشل ایکٹویٹی کے لیے اس سے بہتر اور کیا سٹیٹس ہو سکتا ہے اور اسی لیے یہ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا ٹرینڈ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ نواز کا ٹرینڈ اور کرکٹ پاکستانی ٹوئٹر پر حاوی ہے مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دیکھتے ہیں کہ سوشلستان میں اور کیا ہوتا رہا ہے۔

حلب کا پانچ سالہ عمران دقنیش

مشرقِ وسطی میں بے چینی اور تشدد کا شکار لوگوں کی تعداد بلاشبہ کروڑوں میں ہے جن میں لاکھوں جو جان سے گئے اور لاکھوں جو زندہ تو ہیں مگر سوچتے ہیں کیوں؟

اس سارے قتلِ عام میں چند مہینوں کے بعد ایک بچہ دنیا کے ضمیر کو کچوکے دینے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

کبھی ترکی کے ساحلوں پر اوندھے منہ لیٹے جب اُس کی روح اس دنیا سے گزر چکی ہے تو کبھی کوہِ سنجر پر جہاں معذوری کی حالت میں دنوں تک پڑے عزیز نامی اس بچے کی آنکھیں مسلسل سورج کو تکتے اندر تک جھلس گئی تھیں کیونکہ اس کی ماں اس کے وزنی ہونے کی وجہ سے اسے اٹھا کر بھاگ نہیں سکتی تھی اور وہ معذوری کے باعث کروٹ نہیں بدل سکتا تھا اور ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

آج دنیا بھر کے اخبارات کے صفحۂ اول پر عُمران کی تصاویر ہیں بالکل اسی طرح جیسے ایلان کردی کی تصاویر چند مہینے قبل دنیا بھر کے اخبارات پر شائع ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Khalid Albaih
Image caption اس کارٹون میں دو بچوں کی تصویر کشی کی گئی ہے جن میں سے ایک ایلان کردی ہیں اور دوسرے عُمران اور لکھا ہے ’شامی بچوں کے لیے دو ہی راستے اگر وہ شام سے جائیں تو اگر وہ شام میں رہیں تو۔‘

اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے ایمبولینس کی کرسی پر بیٹھے عُمران کی تصاویر عالمی رہنماؤں کی گفتگو کے درمیان فوٹو شاپ کر کے لگائیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ان سب مذاکرات ان سب پلیٹ فارمز پر عُمران موجود ہے مگر اسے دیکھنے کی چشمِ تصور شاید کسی کسی کے پاس ہے۔

ایک قطری کارٹونسٹ خالد البیع نے اپنے کارٹون میں اس دنیا میں جنگ سے متاثرہ بچوں کی حالتِ زار کی تصویر کشی کی، جس میں ہم جی رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ afp

ایک صحافی روری دونغی نے لکھا ’جب ہم اس بات پر لڑتے ہیں کہ شام میں کون سا خاک اور خون میں لتھڑا بچہ زیادہ معنی رکھتا ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی اجتماعی انسانیت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‘

سوشل میڈیا یا نفرت کا لاؤڈ سپیکر؟

گذشتہ دنوں ایک برطانوی تھنک ٹینک کی تحقیق سے پتا چلا کہ گذشتہ ماہ جولائی میں دنیا بھر میں ہر روز صرف انگریزی زبان میں تقریباً سات ہزار ’اسلام دشمن‘ ٹویٹس بھیجی گئیں۔

اسلام کے خلاف ٹویٹس ایک جانب مگر ’انسانوں کے انسانوں کے خلاف‘ کمنٹس کا کوئی معیار نہیں ہے اور اس میں سوشل میڈیا پر اضافہ تشویشناک ہے جس کا اندازہ کسی بھی پوسٹ کے نیچے کمنٹس پڑھ کر ہو جاتا ہے۔

حال یہ ہو گیا ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر یمن، شام کے بارے میں نہیں لکھ سکتے کیونکہ ’سنی شیعہ‘ کا ٹیگ لگا کر آپ کو ناقابلِ تحریر الفاظ میں گالیاں دی جائیں گی، سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کی بات نہیں کی جا سکتی اس پر آپ کو ’شیعہ اور کافر‘ قرار دیا جائے گا۔

<span >اس سارے کمنٹس اور ان کے جوابات کی دوڑ میں انسان دوسرے انسان کو ہر اُس زاویے سے دیکھتا ہے جس میں ’انسانیت نہیں‘ مگر جب بریانی کے ساتھ ’مسلم‘ لگ کر اس کی اصلیت بہتر ہوتی ہے تو ’شیعہ ایرانی ایجنٹ‘ کہنے میں کیا مضائقہ ہے؟

کسے فالو کریں؟

اس ہفتے سوشل میڈیا پر سرگرم قطری کارٹونسٹ خالد البیہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے آپ کو متعارف کروائیں گے۔

خالد سیاسی کارٹون بناتے ہیں اور عرب دنیا میں ابھرتے ہوئے کارٹونسٹ ہیں اور انھیں ان کے سادہ انداز اور پراثر کارٹونز کی وجہ سے توجہ حاصل ہو رہی ہے۔

آپ خالد کی تمام تخلیقات اس ویب سائٹ پر یا ان کے ٹوئٹر پر دیکھ سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Greater Kashmir
Image caption بشکریہ گریٹر کشمیر یہ تصویر امان فاروق کی ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں چودہ اگست کو یہ گائے سڑکوں پر نظر آئی۔

ایاز رسول نازکی نے اپنا یہ شعر ٹوئٹر پر لکھا

آنکھیں تو چرا لو گے

پر خواب نہیں دوں گا

اسی بارے میں