سوشل میڈیا پر ایم کیو ایم مخالف’یلغار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نجی چینل اے آر وائی کے دفتر اور قریبی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور اس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائیوں کی خبریں نہ صرف مقامی میڈیا پر بلکہ سوشل میڈیا پر بھی چھائی ہوئی ہیں۔

اس وقت پاکستان میں ٹوئٹرز پر پہلے دس ٹرینڈز کا تعلق بھی کراچی کے واقعات سے ہے جس میں سب سے مقبول #BanMQM ایم کیو ایم پر پابندی سے متعلق ہے۔ اس کے بعد دوسرا مقبول ٹرینڈ # Pakistan Zindabad ہے۔

٭ایم کیو ایم کے متعدد رہنما’تحویل میں‘، دفاتر پر چھاپے

یہ دونوں ٹرینڈ پاکستان کے علاوہ عالمی سطح پر بھی پہلے دس ٹرینڈز میں شامل ہیں۔

#BanMQM میں رینجرز کے اس اہلکار کی تصویر سب سے زیادہ شیئر کی جا رہی ہے جسے مقامی میڈیا میں کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کو اپنے ساتھ رینجرز ہیڈ کواٹر لیجاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

ٹرینڈ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ایم کیو ایم پر پابندی عائد کیے جانے کے بیانات کو شیئر کیا جا رہا ہے۔

ایک صارف نے ایم کیو ایم کے خلاف کریک ڈاؤن کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ آج پاکستان کی کرکٹ ٹیم رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر آئی تو اس کے بعد سے کسی اور اچھی خبر کا انتظار تھا۔

Image caption ایم کیو ایم رہنما کو کراچی پریس کلب کے باہر سے تحویل میں لینے والے اہلکاروں میں شامل اس اہلکار کو خوب ٹوئٹ کیا جا رہا ہے

اس کے ساتھ ساتھ اس ٹرینڈ پر ایم کیو ایم کے منحرف رہنما اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی تصویر کو شیئر کیا جا رہا ہے جس میں وہ ایم کیو ایم پر پابندی کے ٹرینڈ پر خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی تصویر کے ساتھ ایک صارف نے لکھا:’اس وقت دنیا کے خوش ترین انسان۔‘

اس ٹرینڈ پر ایم کیو ایم اور اس کے قائد کے خلاف ٹوئٹس کی بھرمار ہے لیکن چند صارفین نے الطاف حسین کے بغیر یا مائنس اطلاف حسین کے بارے میں ٹوئٹس کی ہیں۔

ٹوئٹر پر دوسرا مقبول ترین ٹرینڈ Pakistan Zindabadہے۔ اس ٹرینڈ میں بھی ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی پاکستان مخالف بیانات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کے حق میں بیانات دیے جا رہے ہیں۔

Image caption مصطفیٰ کمال کی تصاویر پوسٹ کی جا رہی ہیں

اس ٹرینڈ پر ایک صارف ویک اپ پاکستان نے لکھا کہ’ پاکستان زندہ آباد، فوج کی طرف سے آزادی کا بہترین تحفہ۔‘

اس کے علاوہ ایک صارف Deeh Aay نے لکھا کہ’میں مہاجر ہوں اور پاکستان سے پیار کرتا ہوں اور الطاف حسین سے نفرت کرتا ہوں، پاکستان زندہ آباد۔

مقامی میڈیا کے بعد جیسے ہی سوشل میڈیا پر الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر پر سخت تنقید شروع ہوئی تو ایم کیو ایم کے متعدد رہنماؤں نے پاکستان کے حق میں ٹوئٹس کرنا شروع کر دی۔

اس پر ایک صارف علی قاسم نے لکھا کہ اب ایم کیو ایم کے رہنما پاکستان زندہ آباد کی ٹوئٹس کر رہے ہیں۔

اس بیان کے اوپر کی ایم کیو ایم کے رہنما سینیٹر طاہر مشہدی کی ٹوئٹ تھی جس میں انھوں نے کہا کہ وہ پیارے ملک پاکستان کی خدمت کرتے رہیں گے اور انھیں اس پر فخر ہے۔ انھوں نے پاکستان زندہ آباد لکھتے ہوئے کہا کہ کسی کو اس عظیم قوم کو نقصان نہیں پہچانے دیں گے۔

اسی بارے میں