’پاکستان کے خلاف بات ذہنی دباؤ کے نتیجے میں کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پیر کی شام کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کی ٹیلی فونک تقریر کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد انھوں نے معافی مانگی ہے۔

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں الطاف حسین نے کہا ہے کہ وہ اپنی ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریاں دیکھ کر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور اسی عالم میں وہ تقریر کر بیٹھے۔

٭ ایم کیو ایم کا ہیڈکوارٹر سیل، متعدد رہنما حراست میں

٭ ’پاکستانی سالمیت کے خلاف برطانوی سرزمین استعمال قابلِ مذمت

ان کی معافی کے چیدہ نکات پیشِ خدمت ہیں:

  • میں الطاف حسین ولد نذیر حسین مرحوم، اپنے ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل اورساتھیوں کی مسلسل گرفتاریوں اور ان کی مشکلات دیکھ دیکھ کر شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوا، جس کی وجہ سے میں نے پاکستان کے خلاف جو الفاظ استعمال کیے وہ انتہائی ذہنی دباؤ کے نتیجے میں کہے گئے۔
  • میں شدت جذبات سے مغلوب ہو کر وہ الفاظ ادا کر بیٹھا جومجھے ہرگز ہرگز استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے۔
  • میں نے اسٹیبلشمنٹ بشمول جنرل راحیل شریف، ڈی جی رینجرز جنرل بلال اکبراور پاکستان کے خلاف جوالفاظ استعمال کیے، اس پر نادم ہوں۔
  • میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان کے عوام، اسٹیبلشمنٹ، فوج، آئی ایس آئی، تمام ارباب اختیار اورحکمرانوں کویقین دلاتا ہوں کہ آئندہ میری جانب سے ایسے الفاظ ہرگزاستعمال نہیں ہوں گے۔
  • ارباب اختیار سے یہی درخواست ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے خلاف کیے گئے اقدامات کو ختم کر دیں۔
  • خلوص دل کے ساتھ کہتاہوں کہ ایم کیو ایم پاکستان کی دشمن نہیں ہے، کچھ ملک دشمن عناصر نے فوج اور ایم کیو ایم میں دوریاں پیدا کی ہیں۔
  • میڈیا کے ساتھ جو ناخوش گوار واقعات پیش آئے اس پر میں میڈیا کے ایک ایک ساتھی سے بھی معافی کا طلب گار ہوں۔
  • ایم کیو ایم کے تمام گرفتارشدگان رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیا جائے اور انھیں سیاسی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دی جائے۔

اسی بارے میں