’متحدہ کا لندن دفتر سے اظہارِ لاتعلقی ہی واحد راستہ تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مختلف شہروں میں الطاف حسین کے بیان پر مظاہرے بھی کیے گئے

پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے گذشتہ روز کے بیان اور پاکستان کے خلاف نعرہ بازی پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم لندن سے لاتعلقی کے علاوہ پاکستان کی قیادت کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔

سیاسی جماعتوں کے قائدین نے پاکستان مخالف تقاریر، نعرے بازی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے اور اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

٭ ’فیصلے ہم کریں گے اور ایم کیو ایم پاکستان سے چلےگی‘

٭ ’پاکستان کے خلاف بات ذہنی دباؤ کے نتیجے میں کی‘

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ لندن دفتر سے لاتعلقی جماعت کے قائدین کے پاس واحد راستہ تھا اور اب فاروق ستار اور دیگر مقامی قائدین کو اسے ثابت بھی کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ عام اردو بولنے والا معصوم ہے اور وہ پاکستان سے انتہائی محبت کرتے ہیں اس لیے اس ساری صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم کو سوچا جا سکتا ہے لیکن اس میں جو مسلح لوگ ہوں انھیں کنٹرول کرنا ہوگا وگرنہ یہ ساری مشق بے سود ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مخالف نعرے اور باتیں ایم کیوایم کے سربراہ نے پہلی مرتبہ نہیں کیں بلکہ سنہ 1979 سے یہی سلسلہ چل رہا ہے ۔

Image caption سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ لندن دفتر سے لاتعلقی جماعت کے قائدین کے پاس واحد راستہ تھا

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سعید غنی نے کہا ہے کہ یہ جماعت کا اپنا فیصلہ ہے اور یہ شاید نقصان پر قابو پانے یعنی ڈیمج کنٹرول کا راستہ ہے کیونکہ جو کچھ گذشتہ روز ہوا اس کا دفاع نہیں ہو سکتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سندھ میں صوبائی حکومت نے تمام قانونی کارروائی کی اور اس سلسے میں گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں اب اس بارے میں مزید اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان مخالف تقاریر کرنے کی مذمت کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے رہنما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق غنی نے کہا ہے کہ پاکستان مخالف باتیں کرنے والے تمام افراد کو سخت سزا دی جائے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ بار بار پاکستان مخالف باتیں کرنا ناقابل معافی جرم ہے

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ الطاف حسین نے پاکستان مخالف باتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے اور

برٹش ہائی کمیشنر کو طلب کرکے اسے کہنا چاہیے کہ برطانیہ سے ان کے ملک کے خلاف باتیں کی جا رہی ہیں۔ مشتاق غنی کے مطابق یہ وفاقی حکومت کی نااہلی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ بار بار پاکستان مخالف باتیں کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک تشدد کی بات ہے اور میڈیا کے دفاتر پر حملہ ہے اس کی سزا ضرور ہونی چاہیے باقی رہ گئی بات ان کی باتوں کی تو یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ کس طریقے سے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

میاں افتخار حسین نے ذرائع ابلاغ کے دفاتر پر حملوں کی بھی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ قابل برداشت نہیں ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیح رشید احمد نے ایم کیو ایم لندن کے دفتر سے لاتعلقی کے فیصلے کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ اب مقامی قیادت کو یہ سب ثابت بھی کرنا ہوگا ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک عرصے سے ایم کیو ایم میں ’مائنس الطاف حسین‘ کی باتیں ہو رہی تھیں اور منگل کو جو پیش رفت ہوئی ہے یہ اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔

اسی بارے میں