تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کو سونپتا ہوں: الطاف حسین

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اپنے ایک بیان میں ایم کیوایم کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر رہنماؤں کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے پارٹی کے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

* ’فیصلے ہم کریں گے اور ایم کیو ایم پاکستان سے چلےگی‘

* ’فیصلوں کی توثیق لندن سے الطاف حسین ہی کریں گے‘

متحدہ قومی موومنٹ کی ویب سائٹ پر الطاف حسین ک جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائدین نے ’اپنی پریس کانفرنس میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، میں ان کا احترام کرتے ہوئے بحیثیت بانی وقائد، تنظیم سازی، فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے مکمل اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کرتا ہوں۔‘

بیان کے مطابق الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام منتخب نمائندوں، ذمہ داروں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ تحریک کی بہتری کیلئے رابطہ کمیٹی کے ہاتھ مضبوط کریں۔

الطاف حسین نے مزید کہا کہ اب وہ رابطہ کمیٹی کے مشورے کے مطابق اپنی صحت کی بہتری پر خصوصی توجہ دیں گے۔

’کیونکہ پے درپے حادثات اور افسوسناک خبروں اور مسلسل رات دن تنظیمی مصروفیات کی وجہ سے میں شدیدذہنی تناؤ کا شکار تھا اور اپنی صحت پر توجہ نہیں دے پا رہا تھا۔‘

الطاف حسین نے بیان میں اپنی تقریر کے حوالے سے کہا کہ ’پاکستان کے عوام کی جو دل آزاری ہوئی ہے اس پر میں ایک بارپھر دل کی گہرائی سے معذرت چاہتاہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MQM
Image caption منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ جب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جماعت ہے تو اس کا انتظام بھی پاکستان سے چلنا چاہیے

اس سے قبل منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ جب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جماعت ہے تو اس کا انتظام بھی پاکستان سے چلنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ذہنی تناؤ یا کسی بھی وجہ سے جماعت کے قائد الطاف حسین ’پاکستان مخالف‘ بیانات دے رہے ہیں تو پہلے یہ معاملہ حل ہونا چاہیے۔

جبکہ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں موجود رہنما واسع جلیل نے کہا تھا کہ جماعت کے فیصلوں کی توثیق پہلے بھی قائد الطاف حسین کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی وہ ہی کریں گے۔ان کے بقول فاروق ستار کی پریس کانفرنس کے بارے میں لندن میں موجود قیادت کو پہلے سے علم تھا۔

نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے واسع جلیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے کہا کہ جماعت کے معاملات جیسے پہلے چلتے تھے ویسے ہو چلتے رہیں گے اور کل اگر دوبارہ اپنے کارکنوں سے خطاب کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں