’وسیم اختر جیل سے کراچی چلا کر دکھائیں گے‘

Image caption ہماری پہلی کوشش ہوگی کہ جناح گروانڈ میں جمع ہوں اور اپنی خوشی کا اظہار کریں: فاروق ستار

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے میئر کے انتخاب کے بعد نائن زیرو اور جماعت کے دیگر سربمہر سیاسی دفاتر کھولے جانے چاہییں کیونکہ یہ عوامی افادیت کے مقامات ہیں۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو کراچی میونسپل کارپوریشن کے میئر کے لیے جماعت کے امیدوار وسیم اختر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

٭ تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کو سونپتا ہوں: الطاف حسین

٭ کراچی کے بلدیاتی الیکشن میں ایم کیو ایم سرِ فہرست

وسیم اختر گذشتہ ماہ کراچی میں دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے علاج میں معاونت کے مقدمے میں ضمانت کی منسوخی کے بعد سے زیرِ حراست ہیں۔

انھیں اس کے علاوہ 12 مئی 2007 کی ہنگامہ آرائی اور قتلِ عام کے مقدمے میں بھی نامزد کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم میئر کے انتخاب میں کامیابی ہوئی تو وہ جیل سے شہر چلا کر دکھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں آزمانے والے چاہتے ہیں کہ ہر معاملے میں ہم ایک ریکارڈ بنائیں، وہ چاہتے ہیں کہ جیل سے کراچی کو کیسے چلایا جائے گا تو ہم یہ ریکارڈ بھی قائم کر کے دکھائیں گے اور جیل سے کراچی چلا کر دکھائیں گے۔‘

کراچی میونسپل کارپوریشن کی 208 نشستوں میں سے 136 نشستوں پر کامیابی کے بعد ایم کیو ایم بغیر کسی اتحاد کے میئر اور نائب میئر لانے کی مضبوط پوزیشن میں ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کا جشن ایم کیو ایم کے مرکز عزیز آباد میں واقع جناح گراؤنڈ میں منانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور جب ایم کیو ایم کے کارکن خوش ہوں گے تو وہ اپنے گھروں سے باہر نکل کر جشن منائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری پہلی کوشش ہوگی کہ جناح گراؤنڈ میں جمع ہوں اور اپنی خوشی کا اظہار کریں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ جناح گراؤنڈ کے اطراف کے حالات کیسے ہوں گے۔

Image caption راچی میں میئر کے عہدے کے لیے ایم کیو ایم کے نامزد امیدوار وسیم اختر کو کئی مقدمات کا سامنا ہے

انھوں نے کہا کہ ’نائن زیرو پر سِیل لگی ہوئی ہے، میئر کے انتخابات کے بعد نائن زیرو اور سیاسی دفاتر کھولے جانے چاہییں۔ ان دفاتر کی عوامی افادیت ہے وہاں یو سی چیئرمین اور وائس چیئرمین بیٹھتے ہیں، ایم این اے اور ایم پی اے شکایات سنتے ہیں۔ ان دفاتر کو ہمارا تنظیمی سٹرکچر نہ سمجھا جائے۔‘

ڈاکٹر فاروق ستار نے گذشتہ روز بیان کیے گئے اپنے موقف کو دہرایا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں سیاست کر رہی ہے، ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست کر رہی ہے اس لیے فیصلے بھی پاکستان سے ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’رات کو اگر کوئی کنفیوژن تھی تو عشا کی نماز تک رہی لیکن جب فجر کی نماز کا وقت شروع ہوا تو یہ الجھن دور ہوگئی کیونکہ قائد تحریک کا بیان آگیا انھوں نے ہماری تائید کی۔‘

ایک سوال کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ ’نسرین جلیل نے ایم کیو ایم چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا، انھوں نے کہا تھا کہ یہ کنفیوژن رہی تو میں بھی چھوڑ دوں گی۔ اب خواجہ اظہار کی ان سے بات ہوئی ہے، اور کوئی کنفیوژن نہیں رہی۔‘

اسی بارے میں