گوادر: تحصیلدار اور لیویز فورس کے پانچ اہلکار ہلاک

Image caption تحصیلدار لیویز فورس کے ہمراہ اس علاقے میں ایک اراضی کا تنازعہ نمٹانے گئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ایک تحصیلدار اور لیویز فورس کے پانچ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ضلع نصیرآباد میں سکیورٹی فورسز نے ایک سرچ آپریشن میں کم از کم پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

٭ گوادر میں دھماکہ، دو کوسٹ گارڈ ہلاک

ضلع گوادر میں یہ واقع ایران سے متصل تحصیل جیونی کے علاقے کلدان میں پیش آیا۔

کمشنر مکران بشیر احمد بنگلزئی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تحصیلدار جیونی لیویز فورس کے اہلکاروں کے ہمراہ ایک اراضی کا تنازعہ نمٹانے کے لیے کلدان گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ واپسی پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑیوں کو روکا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

’اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوگئے جن میں تحصیلدار اور لیویز فورس کے پانچ اہلکار شامل ہیں۔‘

اس واقعے میں لیویز فورس کے ایک نائب رسالدار میجر اور ایک اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوادر منتقل کیا گیا ہے۔

گوادر کے اس علاقے میں ہونے والے حملے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے اور کمشنر نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

گوادر بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے اور اس ضلع میں پہلے بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

دوسری جانب ضلع نصیرآباد میں سکیورٹی فورسز نے ایک سرچ آپریشن میں کم از کم پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے یہ سرچ آپریشن نصیر آباد کے علاقے چھتر میں کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اس علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کیا گیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔

ان ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ایک عسکریت پسند تنظیم سے تھا جو کہ سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ دیگر جرائم میں ملوث تھے۔

تاہم بلوچ رپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مارے جانے والے عام لوگ تھے۔

اسی بارے میں