پنجاب میں طالبات کو مرغبانی سکھانے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد طالبات کو عملی زندگی کے لئے تیار کرنا اور انھیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی تربیت دینا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ نے صوبہ بھر کے سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طالبات کو مرغبانی سکھانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کا باقاعدہ آغاز 15 ستمبر کو کیا جائے گا۔

٭ سکول چوکیدار اسلحہ نہیں چلا سکتے تو رشتے دار کو ساتھ لائیں

٭تعلیم سے محروم ساڑھے سات کروڑ بچوں کے لیے امداد ضرورت

لاہور سے صحافی ناصر خان کے مطابق محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ کےسیکریٹری نسیم صادق نے کہا ہے کہ یہ پنجاب حکومت کا اپنا منصوبہ ہے جس کے تحت پرائمری سکولوں کی طالبات کو تربیت کے علاوہ بغیر قیمت کے مرغیاں بھی فراہم کی جائیں گی۔

’تربیت حاصل کرنے والی بچیوں کو پانچ مرغیوں اور ایک مرغے پر مشتمل یونٹ پنجرے سمیت دیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے صوبے بھر کی شہری آبادی کے نواح میں واقع ایک ہزار سرکاری گرلز پرائمری سکولوں کو منتخب گیا ہے، تاہم اگلے مرحلے میں نجی سکولوں کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔

مرغبانی کے اس منصوبے پر صوبے کے دیہی علاقوں میں پہلے سے ہی عمل جاری ہے اور تقریباً دو لاکھ عام دیہی افراد کو ’نو پرافٹ نو لاس‘ کی بنیاد پر سرکاری فارموں سے مرغیاں فراہم کی گئی ہیں، جس کے مطابق ہر شخص کو پانچ مرغیوں، ایک مرغا اور ڈربے پر مشتمل پورا سیٹ دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اس کی کفالت کر کے گھر کی سطح پر اپنا چھوٹا کاروبار شروع کر سکے۔

نسیم صادق نے بتایا کہ منصوبے کے کئی مقاصد ہیں، جن میں پروٹین کی کمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ مچھروں کی افزائش روک کر ملیریا اور دیگر بیماریوں کا تدارک بھی ہے کیونکہ جہاں مرغیاں ہوتی ہیں وہاں مچھر کم ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کا شمار پروٹین کی کمی والے ممالک میں ہوتا ہے، جب کہ اس منصوبے سے لوگوں کو گھر ہی میں انڈوں اور مرغی کے ذریعے پروٹین کی کمی کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

نسیم صادق نے کہا کہ مرغبانی کی تربیت کے لیے ایسے سکولوں کا انتخاب کیاگیا ہے جہاں جگہ زیادہ ہو اور تربیت حاصل کرنے والی بچیوں کو پانچ مرغیوں اور ایک مرغے پر مشتمل یونٹ پنجرے سمیت دیا جائے گا جبکہ سکول میں تربیت کے لیے فراہم کی جانے والی مرغیوں کا فائدہ سکول کے چھوٹے سٹاف آیا اور چوکیدار وغیرہ کو ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ بچے کھچے کھانے سے ان مرغیوں کی کفالت کی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس منصوبے میں پنجاب میں لڑکیوں کے 1000 پرائمری سرکاری سکولوں کو شامل کیا گیا ہے

لیکن دوسری جانب خواتین کے حقوق کی علم بردار فرزانہ باری نے منصوبے کو حکمرانوں کی دقیانوسی سوچ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا کرنا خواتین کو صرف باورچی خانے تک محدود کرنے کی سازش ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں فرزانہ باری نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری اور مساوات کا احساس پیدا کرنے کے لیے لڑکوں کو اس منصوبے کے لیے منتخب کرتی تو زیادہ اچھا ہوتا۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو زیادہ اعتماد دیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں آگے بڑھ سکیں۔

جبکہ محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ کے ڈپٹی سیکریٹری عرفان خالد کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد طالبات کو عملی زندگی کے لیے تیار کرنا اور انھیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی تربیت دینا ہے۔

عرفان خالد کے بقول لڑکیاں اس معاملے میں لڑکوں سے زیادہ حساس اور ذمہ دار ہوتی ہیں اس لیے یہ منصوبہ لڑکیوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔

عرفان خالد نے بتایا کہ مرغبانی کے لیے طالبات کو کچھ زیادہ محنت یا اضافی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی اور وہ گھر کے بچے کھچے کھانے سے ہی مرغیوں کو پال سکتی ہیں جس سے انڈوں کی صورت میں نہ صرف پورے گھر کی پروٹین میسر ہو سکتی ہے بلکہ ان مرغیوں میں اضافہ کرکے وہ گھر بیٹھے مستقل آمدن کا ایک ذریعہ بھی بنا سکتی ہیں۔ جس سے انھیں خود کفالت اور مستقبل میں مالی خود مختاری کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں