سوات میں غیرت کے نام پر نوجوان ہلاک، خاتون زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں حکام کے مطابق غیرت کے نام پر ایک شادی شدہ خاتون اور ایک نوجوان پر تشدد کے نتیجے میں نوجوان ہلاک جبکہ خاتون شدید زخمی ہوگئی ہے۔

سوات میں صحافی انور شاہ نے بتایا کہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ تحصیل بریکوٹ کے علاقے شموزئی میں پیش آیا جہاں ایک شادی شدہ خاتون کے والد اور چچا نے اسے اور ایک نوجوان کو درخت سے باندھ کر پتھروں اور ڈنڈوں سے مارا۔

٭سوات: خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ

٭ موبائل پر ’غیر مردوں سے باتیں‘ کرنے پر بہن کا قتل

پولیس کے مطابق اس تشدد کے نتیجے میں وہ نوجوان ہلاک ہوگیا جبکہ خاتون کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زیر علاج ہیں۔

پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صدیق اکبر نے بتایا کہ واقعے میں ملوث خاتون کے والد اور چچا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

صدیق اکبر کے مطابق ہسپتال میں خاتون کی حفاظت کے لیے سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق خاتون کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کے باعث وہ بیان دینے کے قابل نہیں ہیں۔

سوات میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم دی اویکننگ کے ڈائریکٹر عرفان حسین بابک نے بتایا کہ سوات میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران 15 افراد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے جس میں تین مرد بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق سوات میں رواں سال کے دوران غیرت کے نام پر 39 افراد کو ہلاک کیاگیا۔

عرفان حسین بابک کے مطابق ہلاک ہونے والے تعداد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ زیادہ تر واقعات خاندانی بدنامی کے باعث رپورٹ نہیں ہوتے اور انھیں مقامی جرگوں کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ سوات میں کچھ عرصے سے غیرت کے نام پر قتل کرنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ ایسے واقعات میں مقامی جرگوں کے ذریعے راضی نامے ہیں جس سے قتل میں ملوث ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں۔

اسی بارے میں