قندیل بلوچ کے بھائیوں کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست

Image caption قندیل کے ایک بھائی پاکستانی فوج میں نائب صوبیدار کے عہدے پر فائض ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس نے سوشل میڈیا پر مقبول ماڈل قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل میں ان کے دو بھائیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور اُنھیں اشتہاری قرار دلوانے کے لیے ملتان کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں قندیل کے جن دو بھائیوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے اسلم شاہین پاکستانی فوج میں نائب صوبیدار کے عہدے پر فائز ہیں اور مقامی پولیس کے مطابق وہ ان دنوں کراچی میں تعینات ہیں جبکہ عارف کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے بارے میں مرکزی ملزم اور قندیل کے بھائی وسیم نے پولیس کو دوران تفتیش بتایا تھا۔

٭قندیل بلوچ کے مقدمہ قتل میں مفتی قوی نامزد

٭ ’وہ قاتل بھائی سمیت سب کی کفالت کرتی تھی‘

٭ ’خاندان کے لوگوں نے قندیل کے قتل کی منصوبہ بندی کی‘

مقدمے کی تفتیشی ٹیم کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ دونوں ملزمان تفتیش کے سلسلے میں پولیس کے سامنے پیش نہیں ہو رہے اس لیے اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے ساتھ ساتھ اُنھیں اشتہاری قرار دیا جائے۔

ملزم اسلم شاہین کو مقتولہ کے والد نے اس مقدمے میں نامزد بھی کیا ہوا ہے جبکہ ملزم عارف کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سعودی عرب میں تھا تاہم قندیل بلوچ کے قتل کے موقع پر وہ پاکستان میں ہی موجود تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قندیل کے دوسرے بھائی ملزم عارف کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے بارے میں حراست میں موجود مقتولہ کے بھائی وسیم نے پولیس کو دوران تفتیش بتایا تھا

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق ملزم کے اس بیان کی تصدیق ایف آئی اے امیگریشن حکام نے کی ہے جنھوں نے بتایا کہ وہ قندیل بلوچ کے قتل کے وقوعہ سے تین روز قبل ہی سعودی عرب سے پاکستان پہنچا تھا۔

عارف کی گرفتاری کے لیے تفتیشی ٹیم نے محتلف جگہوں پر چھاپے مارے ہیں لیکن ابھی تک اس میں کامیابی نہیں ملی۔

ریجنل پولیس افسر ملتان سلطان اعظم تیموری نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم اسلم شاہین کو قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں تفتیش کے لیے پولیس کے سامنے پیش ہونے کے لیے متعدد بار نوٹس بھیجے گئے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

ادھر اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کے مطابق اب تک اس مقدمے کی جتنی بھی تفتیش ہوئی ہے اس میں ملزم اسلم شاہین کا کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ ملزم نے ابھی تک پولیس کو اپنا ابتدائی بیان بھی ریکارڈ نہیں کروایا اس لیے پولیس اس فوجی اہلکار کو کلین چٹ نہیں دے سکتی۔

اسی بارے میں