لاہور: ’سری لنکن ٹیم پر حملے میں ملوث چار شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سکیورٹی فورسز کی کارروائی تین گھنٹے تک جاری رہی(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے یونٹ نے مبینہ پولیس مقابلے میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے اور اقبال ٹاؤن بم دھماکے میں ملوث چار مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پولیس کے مطابق یہ مقابلہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب لاہور کے علاقے مناواں میں ہوا۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ سنہ 2008 میں مون مارکیٹ علامہ اقبال ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے میں ملوث گرفتار ملزموں کی نشاندہی پر ایک ٹیم مناواں کے گاؤں لکھو ڈھیر جارہی تھی۔

مقامی صحافی عبدالناصر نے بتایا کہ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پولیس ٹیم جب وہاں پہنچی تو رنگ روڈ پر میاں ٹاؤن پل کے قریب سات سے آٹھ شدت پسندوں نے ان پر حملہ کردیا۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس نے اپنی دفاع میں حملہ آوروں سے مقابلہ کیا اور جب فائرنگ کا سلسلہ تھما تو جائے وقوعہ سے انھیں چار شدت پسندوں کی لاشیں ملیں جو حملہ آوروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔

ترجمان کے بقول حملہ آور رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے تاہم جائے وقوعہ سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

ترجمان کے مطابق مرنے والے شدت پسندوں میں زبیر، نیک محمد، عبدالوہاب، عدنان ارشد اور عتیق الرحمان شامل ہیں۔

زبیر، نیک محمد، عبدالوہاب اورعدنان ارشد 2009ء میں لاہور کے لبرٹی چوک میں سری لنکن ٹیم پر حملے میں بھی ملوث تھے، جس میں 6 پولیس اہل کار ہلاک ہوئے تھے جبکہ بعض کھلاڑی زخمی بھی ہوئے تھے۔

ترجمان نے بتایا کہ فرار ہونے والے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

اسی بارے میں