آرمی سکول حملہ: عدالتی تحقیقات کے لیے خط لکھنے کی یقین دہانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وفاقی حکومت نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے طلبہ کے والدین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ایک ہفتے میں اس واقعہ سے متعلق عدالتی تحقیقات کروانے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھے گی۔

یہ یقین دہانی وزیر مملکت ڈاکٹر فضل چوہدری نے احتجاج کرنے والے والدین کو کروائی جو جمعرات کو اسلام آباد کے ریڈ زرون کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔

*آرمی پبلک سکول کے طلبہ کے لیے الوداعی تقریب

* سانحۂ پشاور کے چار مجرمان کو پھانسی دے دی گئی

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جس طرح سانحۂ کوئٹہ کی تحقیقات کے لیے پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے از خودنوٹس لیا ہے اسی طرح آرمی پبلک سکول کے واقعہ کی بھی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔

کوئٹہ میں سول ہسپتال کے باہر گذشتہ ماہ ہونے والے خود کش حملے میں وکلا کی ہلاکت کے واقعے میں چیف جسٹس کی جانب سے لیے گئے از خود نوٹس میں صوبائی حکومت اور قانون نافد کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوال اُٹھائے گئے ہیں۔

آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچوں کے ورثا وزیر اعظم ہاؤس جانا چاہتے تھے لیکن قانون نافد کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے انھیں ریڈ زرون کی حدود شروع ہونے سے پہلے ہی روک لیا۔

احتجاج کرنے والے میں ان افراد کی بھی قابل ذکر تعداد تھی جن کی صرف ایک ہی اولاد تھی اور وہ پشاور میں ہونے والے واقعہ میں شدت پسندوں کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔

اس سانحے میں ہلا ک ہونے والے بچوں کے ورثا کی کمیٹی کے سربراہ احمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اپنا احتجاج حکومت کو ریکارڈ کروا دیا ہے اور اگر حکومت نے اپنے وعدے کی پاسداری نہ کی تو وہ ہزاروں افراد کے ساتھ دوبارہ پارلیمان کی طرف جائیں گے اور اس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا۔

اسلام آباد میں مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد 200 کے قریب تھی لیکن کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے دو ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

مقامی میڈیا کو نہ صرف مظاہرین سے دور رکھا گیا بلکہ انھیں اس احتجاج کی براہِ است کوریج کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

اسی بارے میں