’افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے سینکڑوں چوکیاں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آپریشن ضربِ عضب کے دوران 537 اہلکار ہلاک جبکہ 3500 کے قریب شدت پسند مارے گئے

پاکستان کی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کامیاب آپریشن ضربِ عضب کے دوران قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسندوں کے قدم اکھاڑنے کے بعد اب افغانستان کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے سینکڑوں سرحدی چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں اور فورسز کی صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے۔

* ’طالبان کے ڈر کا خاتمہ ضربِ عضب کی سب سے بڑی کامیابی‘

* ضربِ عضب: ایک کند تلوار؟

* ’فاٹا سے شدت پسندوں کا صفایا، توجہ سرحد پر‘

افغان سرحد پر سکیورٹی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوج کی جانب سے سینکڑوں سرحدی چوکیاں اور چھوٹے قلعے کیے جا رہے ہیں

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ قبائلی علاقوں کو کلیئر کرنے کے بعد سرحد کے انتظام پر توجہ دی گئی تاکہ شدت پسندوں کے سرحد کے آر پار جانے کو روکا جا سکے۔

عاصم باجوہ کا کہنا تھا ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان 18 بڑے کراسنگ پوائنٹس ہیں۔ ان تمام سرحدی راہداریوں پر گیٹ لگائے جائیں گے۔ جہاں امیگریشن عملہ اور نادرا سمیت متعلقہ اداروں کے اہلکار تعینات ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے سینکڑوں سرحدی چوکیاں اور چھوٹے قلعے کیے جا رہے ہیں اور اضافی فورسز بھی تعینات کی جا رہی ہیں کہ سرحد پر غیر قانونی نقل و حمل نہ ہو لیکن افغانستان کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

ترجمان نے سرحدی سکیورٹی کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے کہا کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) مشرقی افغانستان میں کافی سرگرم ہے اور یہی علاقے پاکستانی سرحد کے قریب ہیں اس لیے دولتِ اسلامیہ کے پاکستان میں داخلے کو روکنے کے لیے ہی سرحدی سکیورٹی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کو درپیش چیلینجز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہاں 30 لاکھ افغان مہاجرین ہیں جن میں سے بیشتر پر امن ہیں لیکن اگر انہی میں کوئی شدت پسند آ کر چھپ جاتا ہے تو ان کی نشاندہی مشکل کام ہے: عاصم باجوہ

شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے امریکہ سمیت عالمی مطالبوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا ’دنیا کو ہمارے دو چیلنجز سمجھنے ہوں گے ایک تو یہ کہ افغانستان کے ساتھ ہماری 2600 کلومیٹر کی سرحد ہے۔ دونوں طرف قبائلی افراد کا آنا جانا ہوتا ہے جس کے لیے سرحدی انتظام کے تحت سینکڑوں چوکیوں کی تعمیر اور ان پر تعینات کرنے کے لیے ایف سی کی صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے۔‘

’دوسرا یہ کہ یہاں موجود 30 لاکھ افغان مہاجرین جن میں سے بیشتر پرامن ہیں لیکن اگر انہی میں کوئی شدت پسند آ کر چھپ جاتا ہے تو ان کی نشاندہی مشکل کام ہے۔ تاہم مستقبل قریب میں افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد یہ کسی حد تک کم ہو جائے گا۔‘

عاصم باجوہ کا کہنا تھا ’فاٹا سے آنے والے مہاجرین کی اپنے علاقوں میں واپسی رواں سال کے آغاز سے جاری ہے اور اب 34 فیصد باقی رہ گئے ہیں۔ ان کو وہاں واپس جا کر آباد کرنا ہے۔یہاں سڑکیں اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔‘

کومبگ آپریشن

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فوج آگاہ ہے کہ ملک میں کہاں کہاں شدت پسندوں کے لیے ہمدردیاں موجود ہے اور جہاں ضرورت پڑی وہاں کارروائی کی جائے گی: عاصم باجوہ

فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے بتایا کہ ملک بھر میں 168 کومبگ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں غیر ملکی ایجنسیوں کے کردار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادو کے بعد ’را‘ کی موجودگی کے مزید ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں این ڈی ایس کے کچھ لوگ بھی بلوچستان میں پکڑے گئے ہیں۔ ‘

عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے ماحول اور تعلقات میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ آئی ایس اور این ڈی ایس میں تعاون ہو۔ پاکستان اس کا خواہش مند بھی ہے۔‘

بلاتفریق آپریشن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان فوج کے ترجمان نے ایک بار پھر یقین دہانی کروائی کہ شدت پسندی کے خلاف آپریشن بلا تفریق کیا جا رہا ہے

فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن کے حوالے سے ایک بار پھر یقین دہانی کروائی کہ یہ آپریشن بلا تفریق کیا جا رہا ہے اور اس میں’اچھے اور برے طالبان‘ کا کوئی تصور نہیں ہے اور مارے جانے والے شدت پسندوں میں حقانی نیٹ ورک سمیت سبھی لوگ شامل ہیں۔‘

ان کے بقول ’دہشت گردی کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا چاہے وہ پاکستان میں ہو یا پاکستان کی سرزمین سے کی جائے۔‘

عاصم باوجوہ کا کہنا تھا کہ ’متقفہ رائے سے نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا ہے اور اس سے بہتر پلان نہیں ہو سکتا۔ آنے والے وقت میں آپ اس میں تیزی دیکھیں گے۔ ‘

انھوں نے آخر میں واضح کیا فوج آگاہ ہے کہ ملک میں کہاں کہاں شدت پسندوں کے لیے ہمدردیاں موجود ہیں اور جہاں ضرورت پڑی وہاں کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں