موبائل سگنل کی بندش: ’ٹاورز کا رخ موڑیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاک افغان سرحد پر سپل اوور جی ایس ایم کی وجہ سے سگنلز چند کلومیٹر کے محدود علاقے تک پہچ سکتے ہیں

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان موبائل سمز کے سگنل ٹاورز کا رخ موڑنے سے روکے جا سکتے ہیں لیکن افغانستان کی جانب سے اس ضمن میں کوئی تعاون نہیں مل رہا۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی جانب سے حملوں کے بعد اکثر ایک دوسرے کے خلاف الزامات لگائے جاتے ہیں۔ افغان کہتے ہیں کہ ’حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی‘، جب کہ پاکستانی حکام کی جانب سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ حملے میں ’افغان سموں کا استعمال ہوا‘۔

٭’یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی‘

٭ موبائل سم دہشت گردی کے خلاف ہتھیار

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق گذشتہ ایک سال سے افغان سمیں تو پاکستان میں بلاک ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ’سرحد پر افغانستان کی جانب نصب ٹاورز کے سگنل بندش کے باوجود کم ازکم آٹھ کلومیٹر تک کے علاقے میں موجود ہوتے ہیں‘۔

پی ٹی اے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ذریعے افغان ٹیلی کمیونیکیشن حکام تک متعدد بار یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی کہ سرحد پر موبائل سگنل کنٹرول کیا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے گذشتہ برس افغان سموں کی پاکستان میں رومنگ بلاک کر دی تھی تاہم افغانستان میں اب بھی پاکستانی سمز کام کر سکتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر سپل اوور جی ایس ایم کی وجہ سے سگنل چند کلومیٹر کے محدود علاقے تک پہنچ سکتے ہیں۔

کیا اس کا حل ممکن ہے؟

اس کے جواب میں پی ٹی اے کے اہلکار نے بتایا کہ ’یہ اتنا مشکل نہیں اس کے لیے صرف سرحد پر موجود ٹاورز کا رخ موڑنے کی ضرورت ہے لیکن افغانستان کے متعلقہ ادارے کی جانب سے بات چیت کے لیے وقت نہ دینے کی وجہ سے یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے‘۔

ایک ہفتے قبل جب کابل میں یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام افغان حکام نے پاکستان پر لگایا تھا تو اس کے جواب میں پاکستانی فوج کی جانب سے بیان میں بتایا گیا تھا کہ فوج کے سربراہ نے افغان صدر کو ٹیلی فون کر کے یقین دلایا ہے کہ ان کے ملک کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس بیان میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کابل حملے کے دوران استعمال ہونے والی مبینہ موبائل سمز افغانستان کے اندر موجود موبائل نیٹ ورک کا استعمال کر رہی تھیں اور اس نیٹ ورک کے سگنل پاکستان کی حدود کے اندر بعض علاقوں میں موصول ہوتے ہیں۔

وتین ٹیلی کام سے منسلک علی اکبر اس بات سے اتفاق نیں کرتے کہ ٹاور سرحد پر ٹاور کا رخ موڑنے سے سگنلز بند ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ سرحد کے دونوں جانب آبادی ہے رخ موڑنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کے لیے دیگر تکنیکیں استعمال کر سکتے ہیں۔

’ٹاور کے نتیجے موجود ڈیوائس’وائس سپورٹ‘ کو بند کرنے سے سگنل تو موجود رہتے ہیں لیکن سرحد کے دونوں جانب کال کرنے والے ایک دوسرے کی آواز نہیں سن سکتے۔‘

علی اکبر کے مطابق دوسرا آسان طریقہ جیمرز کا ہے لیکن سرحد پر اس کے بجائے ٹائم ایڈوانس پیرا میٹر کا استعمال ہونا چاہیے۔

’ہر موبائل میں موجود اس ڈیوائس کے سٹیپنگ انڈیکس کے ذریعے موبائل کمپنیاں یہ کنٹرول کر سکتی ہیں کہ ان کے نیٹ ورک کا سگنل سرحد کے اطراف کتنے دور تک جا سکتا ہے۔‘

وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کہ افغان سمز پاکستان میں مکمل طور پر بلاک ہو سکتی ہیں۔

’دنیا بھر میں انٹرنیشنل رومنگ کی ایک بڑی مارکیٹ ہے، پانچوں بڑی سیلیولر کمپنیاں ایسا نقصان برداشت نہیں کر سکتیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پری پیڈ سم رکھنے والے صارفین جیسے ہی دوسرے ملک کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں ان کی سم اپنی رجسٹرڈ کمپنی کے کنٹریکٹ کی حامل کمپنی کے سگنلز کیچ کر لیتی ہے۔‘

علی اکبر کہتے ہیں جب دہشت گرد اور جرائم پیشہ افراد اسلحہ خرید سکتے ہیں تو وہ ہائی پاور کے ٹوڈ فون بھی استعمال کر سکتے ہیں جن میں سرحد پار کرنے کے باوجود سگنلز کو کیچ کرنے کی طاقت موجود ہوتی ہے۔

انھوں نے تجویز دی کہ رومنگ پر موجود موبائلز رکھنے والوں کے لیے یہ لازم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی شناختی دستاویز دوسرے ملک میں جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر وہاں موجود سیلولر کمپنی کو فراہم کریں بصورتِ دیگر کمپنیوں کو اپنے نیٹ ورک پر نظر آنے والے نئے صارف کی سروس معطل کر دینی چاہیے۔

اسی بارے میں