پی آئی اے میں چھ ماہ کے لیے لازمی سروس ایکٹ نافذ

حکومتِ پاکستان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ میں اگلے چھ ماہ کے لیے لازمی سروس ایکٹ نافذ کر دیا ہے۔

وفاقی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کی جانب سے فراہم کیے گئے اس حکم نامے کی ایک کاپی بی بی سی کے پاس موجود ہے جسے پی آئی اے کے انسانی وسائل کے شعبے کی جانب سے 30 اگست 2016 کو جاری کیا گیا۔

اس حکم نامے کے مطابق 24 اگست 2016 سے نافذ العمل اس حکم نامے کے مطابق پی آئی اے کے تمام اہلکاروں پر وفاقی لازمی سروس ایکٹ مجریہ 1952 اگلے چھ مہینوں کے لیے لاگو رہے گا۔

* پی آئی اے کے بارے میں پانچ غلط فہمیاں

* ’پی آئی اے میں انتظامیہ کی عملداری، اختیار نہ ہونے کے برابر‘

* پی آئی اے کے 11 ملازمین برطرف، 165 کو اظہار وجوہ کے نوٹس

a) اس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والا مندرجہ ذیل کاموں میں سے کسی ایک یا سب کا مرتکب ہو تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

1: دورانِ ملازمت قانونی طور پر دیے گئے احکامات کی نافرمانی یا دوسرے ملازمین کو ایسے احکامات کی نافرمانی پر رضامند کرنے کی کوشش کرنا۔

2: بغیر کسی جائز وجہ کے کام چھوڑنا یا غیرحاضر ہونا یا کام کرنے سے انکار کرنا، بےشک خود ایسا کر رہا ہو یا اس نوعیت کے کام کرنے والے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر ایسا کر رہا ہو۔

3: یا اس ایکٹ کے سیکشن چار کے سب سیکشن (I) کے تحت اگر کسی جگہ پر کام کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہو تو اس جگہ کو حکم جاری کرنے والے حکام کی مرضی کے بغیر چھوڑنا۔

b) ایسا کوئی بھی شخص جو کسی دوسرے ملازم کو اکساتا یا آمادہ کرے کہ وہ اس ایکٹ کے تحت بیان کیے گئے احکامات کی خلاف ورزی کرے، اسے جانتے بوجھتے ہوئے کوئی رقم فراہم کرے یا خرچ کرے، یا ایسے جرائم کو بڑھاوا دینے کے لیے کام کرے، تو اس کے بارے میں یہی سمجھا جائے گا کہ وہ اس ایکٹ کے تحت کیے گئے جرم کا قصور وار ہے۔

Image caption پی آئی اے کے چیئرمین اعظم سہگل

اس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کو ایک سال تک سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے اور ملازمین کو انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں، ورنہ عدالتی چارہ جوئی کے علاوہ کمپنی کے قوانین کے تحت بھی ضابطے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

حکومتی ذرائع نے اس حوالے سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت پی آئی اے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لا رہی ہے لیکن وہ یہ نہیں چاہتی کہ معاملات کو سیاسی جماعتوں کی ایما پر کام کرنے والے عناصر ہائی جیک کر لیں، اس لیے اس ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اپریل میں ہونے والی ہڑتال میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف نے حکومت پر شدید تنقید کی تھی اور لازمی سروس ایکٹ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

قائدِ حزب اختلاف خورشید نے لازمی سروس کے قانون کو آمرانہ قرار دیا جس پر وزیراعظم نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے دورِ حکومت میں دو مرتبہ لازمی سروس کا قانون نافذ کر چکی ہے۔

یاد رہے کہ پی آئی اے نے 11 مئی 2016 کو 11 ملازمین کو برطرف کر دیا تھا جبکہ 165 کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے تھے۔

تاہم پی آئی اے کے چیئرمین نے اس ساری صورت حال پر سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرے نزدیک اس معاملے کو برے طریقے سے ہینڈل کیا گیا ہم نے لوگوں کی شناخت کی، سزا دی انھیں ملازمتوں سے نکالا، ان کے خلاف کیس درج کروائے مگر کسی نہ کسی طریقے سے وہ سب لوگ پی آئی اے میں واپس پہنچ گئے۔‘

اسی بارے میں