پاناما لیکس: نواز شریف کے بچوں سمیت 450 کو نوٹس جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاناما لیکس میں سینکڑوں پاکستانیوں کی طرف سے آف شور کمپنیوں کے مالکان کی حیثیت سے نام آنے کے بعد ابتدائی طور پر ساڑھے چار سو پاکستانیوں کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

جن اہم شخصیات کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اُن میں وزیر اعظم کے دو صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز کے علاوہ بیٹی مریم نواز کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

٭ پاناما لیکس کمیشن: مسئلہ ایک بل دو

٭ ’پاناما لیکس پر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے‘

٭ میرے باپ کا پیسہ

٭ ایسا کیسے چلے گا

اس کے علاوہ حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین اور علیم خان کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

ایف بی آر کے ایک اہلکار کے مطابق یہ نوٹسز یکم جولائی سے نافد ہونے والے نئے قوانین کی تحت جاری کیے گئے ہیں جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو دس سال تک کے انکم ٹیکس کے گوشواروں کے بارے میں کسی شخص سے پوچھ گچھ کرسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین اور علیم خان کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں

اہلکار کے مطابق جن افراد کو بیرون ملک آف شور کمپنیاں بنانے سے متعلق نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اُن میں زیادہ تعداد کاروباری طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور اُن میں سے زیادہ افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جبکہ صوبہ سندھ اور بالخصوص کراچی دوسرے نمبر پر ہے۔

اہلکار کے مطابق جن افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اُنھیں کہا گیا ہے کہ وہ دو ہفتوں میں اس کا جواب دیں کہ ان آف شور کمپنیز بنانے کے اُن کے ذرائع آمدن، ان کمپنیوں میں کی گئی سرمایہ کاری کی مالیت اور رقم کو بیرون ملک بھجوانے کے طریقہ کار کے بارے میں بھی حکام کو تفصیلی آگاہ کریں۔

حزب مخالف کی جماعتیں وزیر اعظم کے بچوں کا نام پاناما لیکس میں آنے کے بعد میاں نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تاہم وزیر اعظم حزب مخالف کی جماعتوں کا مطالبہ ماننے کو تیار نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس ضمن میں ملک بھر میں تحریک احتساب بھی شروع کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں