صوابی کیڈٹ کالج کے 500 طلبا فوڈ پوائزننگ کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption طالب علموں نے بتایا ہے کہ انھیں نے کھانے میں بریانی کھائی اور کوک پی تھی جس کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں کرنل شیر خان نامی کیڈٹ کالج کے 500 طلبا زہریلا کھانا کھانے کے باعث فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو گئے ہیں۔

٭’پنجاب فوڈ اتھارٹی کی گبّر سنگھ‘

ریسکیو 1122 سے وابستہ ضلعی ایمرجنسی افسر ڈاکٹر حارث حبیب نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ اتوار کی شب انھیں اطلاع موصول ہوئی کہ کرنل شیر خان کیڈٹ کالج کےتقریباً 500 طالب علموں کی طبیعت رات کا کھانا کھانے کے بعد اچانک خراب ہوگئی۔

’طالب علموں نے بتایا ہے کہ انھوں نے کھانے میں بریانی کھائی اور کوک پی تھی جس کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 نے اپنی آٹھ ایمبولینسز کیڈٹ کالج بھجوائیں جن کے ذریعے 100 طالب علموں کو مردان بھجوایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کالج کے اندر موجود ڈسپینسری کی مدد سے وہاں 200 طالب علموں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

ضلعی ایمرجنسی افسر ڈاکٹر حارث حبیب کے مطابق 40 بچوں کو کیڈٹ کالج کی اپنی گاڑیوں کے ذریعے مردان میں سی ایم ایچ ہسپتال پہنچایا گیا۔

’بہت سے بچوں کے معدے واش بھی کیے گئے ہیں، انھیں قے اور ڈائریا کی شکایت ہے۔ تاہم تمام بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘

ڈاکٹر حارث کے مطابق متاثرین میں ساتویں سے لے کر دسویں جماعت کے طالب علم ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ بچوں کی طبیعت کی خرابی کی وجہ جاننے کے لیے کھانے کے نمونے لے کر ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں اور اس کا نتیجہ دس سے 12 گھنٹوں میں مل جائے گا۔

اسی بارے میں