’ہمارے چہرے پر طالبان کا نشان ہے تو بتائیں‘

Image caption علی حسن لانڈھی کی بابر مارکیٹ میں مچھلی فروخت کرتے ہیں

علی حسن 22 سال قبل بنگلہ دیش سے کراچی آئے تھے، 21 سال تک وہ قومی شناختی کارڈ کے ساتھ پاکستان کے شہری رہے لیکن اس کارڈ کی معیاد پوری ہونے کے ساتھ ہی ان کی شہریت بھی ختم ہوگئی۔

علی حسن لانڈھی کی بابر مارکیٹ میں مچھلی فروخت کرتے ہیں۔ اپنے روایتی بہاری لہجے میں انھوں نے بتایا کہ جب وہ شناختی کارڈ لینے نادرا آفس گئے تو حکام نے انھیں ایک خاتون افسر کے پاس بھیج دیا۔

٭ کراچی: غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف آپریشن، 118 گرفتار

٭ ’اگر ظالم مسلمان ہے تو ہندو برادری کےساتھ کھڑا ہوں گا‘

٭ ’پاکستان میں دل لگ گیا ہے اب واپسی مشکل‘

’میڈم کے پاس گئے تو انھوں کہا کہ ری پیٹری ایشن کا کاغذ لاؤ کہ یہاں کب آئے ہو۔ ہم نے انھیں بتایا کہ ہمارا مکان جل گیا تھا اب کاغذ کہاں سے لائیں۔ ہمارا تو کارڈ پہلے بنا ہوا ہے، انھوں نے بات نہیں سنی اور باہر نکال دیا۔‘

50 ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل لانڈھی کی مجید کالونی کی اکثریت بہاری کمیونٹی پر مشتمل ہے، جو بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پاکستان منتقل ہوئی تھی۔

پاکستان کے قومی اندراج کے ادارے نادرا نے یہاں کی 40 فیصد آبادی کے شناختی کارڈ مشکوک قرار دے کر بلاک کر دیا ہے یا نوجوان نسل کو شناختی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسی صورت حال کا سامنا اورنگی، بہار اور مچھر کالونی میں آباد بہاری کمیونٹی بھی کر رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پاکستان آنے والوں میں سویلین آرمڈ فورس کے اہلکار بھی شامل ہیں جو پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر لڑ چکے ہیں۔

اس لڑائی میں نہال زخمی اور بعد میں انڈین فوج کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوئے۔ ان کے مطابق جنرل ریٹائرڈ ٹکا خان نے ہدایت جاری کی تھی کہ بہاریوں کو فوج میں لیا جائے یہ ہمارے ساتھ ہیں، جس کے بعد انھوں نے تین روز کی عسکری تربیت حاصل کی تھی اور نو ماہ تک لڑتے رہے۔

’ہم نے پاکستان کا ساتھ دیا لیکن اب ہمارے لوگوں کا پاکستان کا شناختی کارڈ نہیں بنتا۔ پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ بہاریوں کو پاکستان لایا جائے، جس کے بعد بحری جہاز کے ذریعے انھیں یہاں لایا گیا۔‘

Image caption پاکستان لانے کے بعد بہاری کمیونٹی کو پنجاب اور سندھ کے محتلف علاقوں کے کیمپوں میں رکھا گیا لیکن نہال سمیت سب نے کراچی کا رخ اختیار کیا

پاکستان لانے کے بعد بہاری کمیونٹی کو پنجاب اور سندھ کے محتلف علاقوں کے کیمپوں میں رکھا گیا لیکن نہال سمیت سب نے کراچی کا رخ اختیار کیا۔

مجید کالونی میں بہاری کمیونٹی کو 60، 60 گز کے پلاٹ فراہم دیے گئے تھے، جہاں انھوں نے پہلے کچے اور بعد میں پکے مکان بنائے، آبادی بڑھنے اور مشترکہ خاندان کے باعث یہ مکان عمودی رخ میں بڑھ رہے ہیں۔

یہاں کے مکینوں کی اکثریت اب بھی غربت کی زندگی گزارتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے کیمپوں سے یہاں کی زندگی ہزار درجہ اچھی ہے۔

مردوں کے علاوہ خواتین بھی فیکٹریوں میں کام کر کے گھر میں مددگار ثابت ہوتی تھیں لیکن لیکن شناختی کارڈ کے بغیر ان کے لیے ملازمت کرنا ممکن نہیں رہا۔

ثریا کی پیدائش کراچی کی ہے ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں جسے دکھا کر وہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کے والدین بنگلہ دیش سے آئے تھے۔

انھوں نے بتایا ’ایک دفتر سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کا چکر لگا لگا کر بالاآخر تنگ آ کر وہاں جانا ہی چھوڑ دیا ہے، ہم نے کسی کی چوری کی ہے یا چہرے پر طالبان کا نشان ہے تو بتائیں۔‘

ثریا 100 گز کے پلاٹ پر واقع ایک چھوٹے کمرے میں رہتی ہیں، اسی اراضی پر چار کمرے بنے ہوئے ہیں اور ہر کمرے میں ایک خاندان رہتا ہے۔

ثریا کے مطابق ’فیکٹری والے بھی کہتے تھے کہ شناخی کارڈ لاؤ۔ اب شادی ہوگئی ہے تو بچوں کے لیے بھی کارڈ چاہیے ہوگا اس کے بغیر ہپستال میں علاج بھی ممکن نہیں ہو گا۔‘

Image caption ثریا کی پیدائش کراچی کی ہے ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں جسے دکھا کر وہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کے والدین بنگلہ دیش سے آئے تھے

مجید کالونی کے مکینوں نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اس بنیاد پر ووٹ دیا کہ شناختی کارڈ کا مسئلہ حل کیا جائے۔ علاقے میں کیبل نیٹ ورک چلانے والے فیروز خان آزاد حیثیت سے یونین کمیٹی کے چیئر مین کا انتخاب لڑے اور ایم کیو ایم کے امیدوار کو شکست دے کر کامیاب ہوئے۔

فیروز خان کے مطابق ان کے پاس ایسی خواتین آنے لگیں جن کے شناختی کارڈ کی معیاد پوری ہو چکی تھی اور فیکٹری انتظامیہ نے انھیں مزید ملازمت پر رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ صورت حال دیکھ کر بڑا دکھ ہوا اور انھوں نے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔

فیروز خان نے مسلم لیگ ن میں اسی بنیاد پر شمولیت اختیار کی کہ شناختی کارڈ کا مسئلہ حل ہو گا۔ مسلم لیگ کی قیادت نے ان کی نادرا حکام سے ملاقات کرائی ہے تاہم مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔

فیروز خان کے مطابق ’بنگلہ دیش سے ہجرت کے وقت ہمیں ری پیٹری ایشن سرٹیفیکیٹ دیا گیا تھا، اس کو 30، 40 سال ہوگئے ہیں، اس عرصے میں کچھ لوگوں سے یہ کاغذ گم کر دیا یا پھر کسی کا جل گیا اور کسی کے پاس موجود ہی نہیں ہے۔ اسی سرٹیفیکیٹ کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔‘

1980 کی دہائی میں لسانی فسادات کے جکڑ میں مجید کالونی کا علاقہ بھی آ گیا تھا اور دو بار یہاں کی کچی آبادی کو نذر آتش کیا گیا۔ بہاری کمیونٹی کا کہنا ہے اس آتشزدگی میں ان کے کاغذات جل گئے تھے۔

یونین کمیٹی کے چیئر مین فیروز خان کے مطابق ان کا کوئی بندہ دہشت گردی یا کسی جرم میں ملوث نہیں ہے، اگر تصدیق کرانی ہے تو مقامی تھانے یا ایس ایس پی سے کرائیں۔

شناخت کی بنیاد پر برصغیر تقسیم در تقسیم ہوا لیکن اس بہاری برادری سمیت کئی قومیتیں پاکستان میں آج بھی اپنی شناخت منوانے کے لیے کوشش کر رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں