’لواری ٹنل جون 2017 تک مکمل ہو جائے گی‘

Image caption یہ سرنگ پونے نو کلو میٹر طویل ہے جو چترال کو دیر سے ملائے گی

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ چترال کو ملک کے دیگر علاقوں سے منسلک کرنے والی لواری سرنگ کو جون سنہ 2017 تک مکمل کیا جائے گا جب کہ چترال میں یونیورسٹی اور 250 بستروں کا ہسپتال قائم کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے بدھ کو چترال میں جلسے سے خطاب کرنے کے بعد لواری سرنگ کا دورہ کیا اور وہاں جاری کام کا جائزہ بھی لیا۔

٭ لواری سرنگ 11 برس بعد بھی نامکمل

٭ لواری سرنگ: چترالیوں کے لیے ایک سہانا خواب

٭ نامکمل لواری سرنگ سے ہزاروں کی زندگی متاثر

لواری سرنگ منصوبے کے حکام نے لواری ٹنل پر جاری کام سے نواز شریف کو آگاہ کیا۔

یہ سرنگ پونے نو کلو میٹر طویل ہے جو چترال کو دیر سے ملائے گی۔

Image caption لواری ٹنل کے منصوبے پر ابتدائی کام سنہ 1970 کی دہائی میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع کیا گیا تھا

نواز شریف نے کہا کہ چترال سے براستہ لواری سرنگ سڑک موٹر وے کی طرح ہوگی اور یہ چکدرہ تک جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ چترال میں بجلی کا گول ان گول نامی منصوبہ بھی سنہ 2018 تک مکمل ہو جائے گا جس سے اس علاقے میں بجلی کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس موقعے پر نواز شریف نے چترال کی ضلعی حکومت کے لیے 20 کروڑ روپے کا اعلان بھی کیا۔

واضح رہے کہ شدید سردیوں میں خیبر پختونخوا سے چترال جانے والا راستہ شدید برفباری کی وجہ سے بند ہو جاتا ہے جس سے چترال کی بڑی آبادی کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔

لواری سرنگ کے منصوبے پر ابتدائی کام سنہ 1970 کی دہائی میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن ایک سال بعد اسے بند کر دیا گیا تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں سنہ 2005 میں پھر اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا گیا۔

موجود حکومت کے دور میں اس منصوبے پر پہلے سست روی سے کام جاری تھا لیکن اب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈ جاری ہونے کے بعد منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔

نواز شریف کے جلسے میں مقامی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی جب کہ سپاس نامہ سابق صدر پرویز مشرف کی جماعت کے واحد رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین نے پیش کیا۔

میاں افتخار الدین نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں چترال میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے تمام منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کے منصوبے منظور کیے جا چکے ہیں۔

اس موقعے پر وزیر اعظم نے چترال کے لیے ایک یونیورسٹی اور 250 بستروں کے ہسپتال کی منظوری دی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں