چاغی سے شدت پسند تنظیموں کے سات ’کارکنان‘ گرفتار

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی سے سرکاری حکام نے کالعدم مذہبی شدت پسند تنظیموں سے تعلق کے شبہے میں سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔

کوئٹہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائی چاغی میں پاک افغان سرحدی علاقے میں کی گئی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اس علاقے میں ایک کمپاؤنڈ میں تھے جہاں حساس اداروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مشترکہ کاروائی کی۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور ان افراد نے ہتھیار ڈال دیے۔

ذرائع کے مطابق ان افراد کا تعلق کالعدم مذہبی شدت پسند تنظیم سے ہے اور ان سے لٹریچر اور دیگر تخریبی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

ضلع چاغی کی شمال میں افغانستان جبکہ مغرب میں ایران سے سرحد لگتی ہے۔ اس سے قبل ضلع چاغی سے متصل ضلع نوشکی سے بھی سرکاری حکام نے ایک ایسی کارروائی میں چھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ان چھ افراد کی گرفتاری کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان افراد کا تعلق القاعدہ اور داعش سے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

دوسری جانب کوئٹہ میں سرکاری حکام نے فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تینوں افراد کی ہلاکت کا واقعہ سریاب کے علاقے قمبرانی میں پیش آیا۔

کیچی بیگ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اہلکار نے بتایا کہ ان افراد کو کیچی بیگ کے علاقے میں دیگرملزمان کی نشاندہی کے لیے لے جایا گیا تھا جہاں ملزمان اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

اہلکار کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں تینوں ملزمان ہلاک ہوگئے جن کو نشاندہی کے لیے لے جایا گیا تھا۔

ان افراد کے حوالے سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ان افراد کی جیبوں سے ملنے والی پرچیوں سے ان کی شناخت ہوئی ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ تینوں افراد کو پہلے ہی لاپتہ کیا گیا تھا اور ان کو دوران حراست ہلاک کیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں