پنجاب میں کالعدم تنظیموں کےخلاف آپریشن، رینجرز طلب

حکومت پنجاب نے صوبے کے ’مخصوص علاقوں‘ میں ہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کےخلاف آپریشن کےلیے رینجرز کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردی کے حالیے واقعات کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ پنجاب میں دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف برسر پیکار انسداد دہشتگردی کی فورس کی مدد کے لیے رینجرز کو تعینات کیا جائے۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں عمر آفریدی کے ساتھ بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب میں رینجرز کو ’مخصوص مدت‘ اور ’مخصوص علاقوں‘ کےلیے بلایا جا رہا ہے۔

انھوں نےکہا کہ ابتدائی طور پر رینجرز کو دو ماہ کے بلایا جا رہا ہے لیکن اگر ضرورت محسوس کی گئی تو ان کی مدت میں توسیع ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب میں رینجرز پہلے سے موجود ہیں اور خفیہ اطلاعات پر پولیس کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب میں رینجرز کو موجودگی کو مزید مربوط بنایا جا رہا ہے اور ان کی تعداد کو بڑھایا جا رہا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ رینجرز کو پنجاب کے’بعض مشکل‘ علاقوں میں جہاں انٹیلجنس رپورٹوں کے مطابق ایک سخت کارروائی کی ضرورت ہے ، کارروائی کے لیے بلایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں کہ پنجاب میں رینجرز کو بلایا گیا ہے، کچھ عرصہ پہلے راجن پور میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے لیے بھی رینجزر کو طلب کیا گیا تھا۔

لاہور سے صحافی عبدل الناصر خان کے مطابق رینجرز کی تعیناتی کے لیے ایک سمری وزیراعلیٰ شہباز شریف کو بجھوا دی گئی ہے جن کی منظوری کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کو رینجرز کی تعیناتی کے لیے خط لکھا جائےگا۔

وزیراعلیٰ کو بھیجی گئی سمری کے مطابق رینجرز کی تعیناتی اپیکس کمیٹی کی جانب سے طے کیےگئے مخصوص علاقوں میں کی جائے گی جہاں وہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف پنجاب پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں میں حصہ لے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں