’کشمیریوں کی حب الوطنی کا امتحان، وندے ماترم‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سوشلستان میں اس وقت لوگ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا نام بار بار لکھ رہے ہیں اور اس کے ساتھ جو کچھ لکھا جا رہا ہے اسے یہاں دہرایا نہیں جا سکتا۔ گذشتہ ہفتے پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن سوشل میڈیا پر ٹرینڈز کھیلتے رہے۔ مگس اس بار سوشلستان کا موضوع مقامی بھی ہے اور بین الاقوامی بھی۔

حب الوطنی کی انتہا

آپ بھی کہیں گے میں نے حبُ الوطنی کا ٹھیکہ لے لیا ہے مگر انڈیا کی وزارتِ تعلیم کے زیرِانتظام ایک ٹوئٹر ہینڈل نے کچھ ایسا کیا جس پر انڈین سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے۔

ابھے کمار نے ایک نظم شیئر کی جو ہندی میں ہے جس میں انڈین فوج سے کہا گیا ہے کہ ’وہ کشمیریوں پر اتنی دیر تک گولیاں برساتے رہیں جب تک وہ شہر کے لال چوک میں وندے ماترم گاتے ہوئے نہ آجائیں۔‘

اس میں یہاں تک لکھا گیا کہ ’یہ عوامی مفاد میں جاری کی گئی ہے اُن سب کے لیے جو اپنی زندگی سے پیار کرتے ہیں کہ وہ خاموشی سے شہر کے چوک میں آ جائیں اور قومی ترانے گائیں اور اس پر کوئی چوں چراں نہ کریں۔‘

اب انڈیا میں اس قسم کا کشمیریوں کے مخالف نفرت انگیز لٹریچر بہت ہے مگر جب ملک کی وزارتِ تعلیم کا تصدیق شدہ ٹوئٹر ہینڈل اسے شیئر کرتا ہے اور ساتھ تبصرہ بھی لکھتا کہ ’حبُ الوطنی کی انتہا‘ تو یقیناً کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے۔

اب یہ بات کسی کے سامنے نہ آتی اگر عام آدمی پارٹی کے انکیت لعل اس کی نشاندہی نہ کرتے جنھوں نے لکھا ’حکومت کا تصدیق شدہ ٹوئٹر ہینڈل کشمیریوں کے قتل عام کی نظم کو

’حبُ الوطنی کی انتہا‘ قرار دیتا ہے۔‘

تاہم اخبارات اور سوشل میڈیا پر یہ معاملہ سامنے آنے کے فوری بعد انڈیا کہ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ یہ اُن کے وزارت کی ترجمانی نہیں ہے اور یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے اسے لکھنے والے کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

حلب کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

امریکہ کے ایک صدارتی امیدوار کی جانب سے سوال کہ حلب کیا ہے سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ بن گیا جسے استعمال کر کے لوگ ایک جانب تو ان صدارتی امیدوار کا مذاق اڑا رہے ہیں دوسری جانب شام کے شہر حلب کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔

زین گردیزی نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر ہم پس اندیشی سے کام لے کر غور کریں تو اگر امریکہ کو حلب کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا تو شاید دنیا اس کے نتیجے میں ایک محفوظ جگہ ہوتی۔‘

جیمز ہیمرک نے لکھا ’ایسی بہت کم چیزیں ہیں جن کی وجہ سے آپ صدارت کی دوڑ کے لیے نااہل ثابت ہو سکتے ہیں مگر یہ کہنا کہ حلب کیا ہے شاید ان میں سے ایک ہو سکتی ہے۔‘

شون مک کارتھی نے لکھا ’میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کو یہ پوچھنا چاہیے کہ حلب کیا ہے اور کیسے ہم سب نے ایسا ہونے دیا۔‘

کسے فالو کریں؟

خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے بات کرنے والوں میں خواتین کی تعداد بہت کم ہے مگر ان سب میں ایک اہم آواز ثنا اعجاز کی ہے جو پشاور کے آرمی پبلک سکول کے بچوں کے لیے انصاف کی مہم ہو یا خواتین کے خلاف جرائم ان تمام موضوعات پر بات کرتی ہیں۔ ثنا اعجاز کو آپ ٹوئٹر پر اس لنک پر فالو کر سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصویر

ایک اشہتار میں خواتین کے اچانک سڑک پر آنے اور رقص کرنے پر پاکستانی سوشل میڈیا منقسم ہے کچھ کے نزدیک یہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک علامتی ویڈیو ہے اور دوسرے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اس سے اختیار کہاں واضح ہوتا ہے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں