پشاور: پولیس انسپکٹر کی ہلاکت کےبعدگرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ روز پشاور میں دو مقامات پر خود ساختہ بم نصب بھی کیے گئے تھے جنھیں بم ڈسپوزل سکواڈ نے بروقت کارروائی کر رکے ناکارہ کر دیا

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک سب انسپکٹر محمد ابراہیم کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد پولیس نے کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے تاہم تاحال اس واقعے میں ملوث افراد کو اب تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

پشاور میں گذشتہ کچھ سالوں میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران تین سو سے زیادہ پولیس اہلکار اور افسران ہلاک ہو چکے ہیں۔

سب انسپکٹر ابراہیم کو کل شام پھندو پولیس تھانے کی حدود میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔ محمدابراہیم ملک سعد پولیس لائنز میں کمپیوٹر سیل کے انچارج تھے۔

گذشتہ روز مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد وہ اخون آباد کے علاقے میں اپنے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہوئے اور انھیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیسں روخان زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ تھا اور اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چند مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن اب تک کوئی بڑی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

انھوں نے بتایا کہ محمد ابراہیم ایماندار پولیس انسپکٹر تھے اور ان کی پولیس میں کارکردگی کو سراہا جاتا رہا ہے۔

محمد ابراہیم کی عمر چالیس سال تھی اور ان کے لواحقین میں بیوہ اور تین بچے ہیں۔

گذشتہ روز پشاور میں دو مقامات پر خود ساختہ بم نصب بھی کیے گئے تھے جنھیں بم ڈسپوزل سکواڈ نے بروقت کارروائی کر کے ناکارہ کر دیا۔

صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی پولیس پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے حملوں میں زیادہ تر پولیس کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔

چند روز پہلے پشاور کے مضافات میں ورسک کے علاقے میں پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکے سے آٹھ اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ ورسک ڈیم کی کرسچن کالونی پر حملے میں بھی دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ مردان کچہری میں خود کش حملے کو روکنے والے محمد جنید بھی پولیس اہلکار تھے۔

اسی بارے میں