تحریکِ انصاف کی سولو فلائٹ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اسے پاکستانی سیاست کی اخلاقی اقدار کہیں یا اپوزیشن جماعتوں کا باہمی انتشار کہ موجودہ حکومت کے خلاف تحریک میں کوئی بھی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رائے ونڈ مارچ کی حمایت کے لیے تیار نہیں۔

یہاں تک کہ حکومت کے خلاف ایک ساتھ تحریک شروع کرنے والے ڈاکٹر طاہرالقادری بھی رائے ونڈ مارچ سے لاتعلق ہوگئے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے جلسوں میں علامتی شرکت والی اپوزیشن جماعتوں نے بھی رائے ونڈ مارچ میں شمولیت سے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔

پاناما لیکس میں وزیراعظم نوازشریف کے خاندان کے افراد کے نام آنے پر پاکستان تحریک انصاف گذشتہ کچھ عرصہ سے سڑکوں پر ہے، اور پاکستان عوامی تحریک، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ اور مسلم لیگ ق نے اب تک کھل کر ان کی حمایت کی ہے، جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل جماعت اسلامی بھی ان کے احتجاج میں علامتی شرکت کرتی رہی ہیں۔

٭ عمران خان کا رائےونڈ کی جانب مارچ کا اعلان

٭ پاناما میں چھپائے اربوں روپے کا حساب لیں گے

لیکن چھ ستمبر کو کراچی میں ہونے والے جلسے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جب 24 ستمبر کو رائے ونڈ کی جانب مارچ کا اعلان کیا تو شیخ رشید کے علاوہ ساری اپوزیشن جماعتیں بیک فٹ پر چلی گئیں۔

خیال رہے کہ رائے ونڈ میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کی رہائش گاہیں ہیں۔

عمران خان کے رائے ونڈ مارچ کی سب سے پہلے مخالفت نوازشریف کے بڑے مخالف سمجھے جانے والے مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی طرف سے سامنے آئی۔ انھوں نے عمران خان کے رائے ونڈ مارچ کے اعلان کے اگلے ہی روز کہا کہ جاتی امرا رائے ونڈ میں نوازشریف کے گھر جانے کا عمران خان کا فیصلہ درست نہیں ہے، اور یہ کہ احتجاج کرنے کے اور بہت سے مقامات ہیں، گھروں میں جانے کی روایت نہیں ڈالنی چاہیے۔

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بھی نو ستمبر کو اپنے بیان میں رائے ونڈ مارچ کی مخالفت کی اور کہاکہ رائے ونڈ میں شریف برادران کے گھر کا گھیراؤ تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ ہے جماعت اسلامی اس کا حصہ نہیں بنے گی۔

عمران خان کے رائے ونڈ مارچ کا سب سے بڑا دھچکہ ڈاکٹرطاہرلقادری کی جانب سے رائے ونڈ مارچ سے اعلان لا تعلقی سے پہنچا، جنھوں نے دس ستمبر کو اپنی پریس کانفرنس نے واضح کیا کہ گھروں پر حملے شریف برادران کی روایت ہے اور یہ کہ انھوں نے کارکنوں کے بےحد اصرار کے باوجود رائے ونڈ میں مقیم سیاسی دشمنوں کے گھر نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان عوامی تحریک کے جنرل سیکریٹری خرم نواز گنڈا پور کہتے ہیں کہ تحریک انصاف نے ان سے مشاورت کی اور نہ ہی انھیں ابھی تک جلسہ میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی تو وہ کس طرح ایک ایسے احتجاج میں شریک ہو سکتے ہیں جس پر انھیں اعتماد میں نہ لیا گیا ہو۔

Image caption تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے رائے ونڈ کے قریب جلسے کے مقام کا معائنہ کیا

خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ ان کی اپنی پارٹی پالیسی ہے کہ وہ کسی گھر کو نشانہ نہیں بناتے، رائے ونڈ میں صرف نوازشریف نہیں رہتے ان کی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد بھی وہیں پر رہائش پذیر ہیں اگر وزیراعظم نے کو قصور کیا ہے تو اس کی سزا باقے بے گناہ لوگوں کو کیوں دی جائے؟

انھوں نے کہاکہ وزیراعظم کے خلاف احتجاج کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس، اسمبلیوں یا سیکریٹریٹ کا انتخاب کیا جاتا ہے، کسی کے گھر کا نہیں۔ انھوں نے ایک اور سوال بھی اٹھایا کہ عوامی تحریک سے تو یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ تحریک انصاف کے جلسوں میں شریک ہو، خود عمران خان بتائیں کہ باقاعدہ مدعو کیے جانے کے باوجود وہ عوامی تحریک کے کتنے جلسوں میں شریک ہوئے ہیں؟

انھوں نے کہا کہ جب ہمارے کارکن قتل کیے گئے تو عمران خان نے کب ہمارے کسی احتجاج میں شرکت کی اور جب عدالت میں کیس چل رہا ہے تو پی ٹی آئی کا کون سا لیڈر وہاں آتا ہے، تو ان حالات میں ان سے توقع کیوں رکھی جا رہی ہے؟

اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت پر تحریک انصاف بھی اپنے موقف میں کچھ تبدیلی کرتی نظر آتی ہے۔ پہلی تبدیلی تاریخ پر نظرثانی کی صورت میں سامنے آئی جب عمران خان نے اعلان کیا کہ رائے ونڈ مارچ 24 ستمبر کو نہیں ہو گا، البتہ محرم سے پہلے ضرور ہوگا۔

تحریک انصاف نے اپنے موقف میں دوسری نرمی یہ کہ انھوں نے مارچ کی بجائے رائے ونڈ میں جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور تیسری اور اہم تبدیلی جگہ کی تبدیلی ہے۔

تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ وہ شریف خاندان کی رہائش گاہوں کی جانب قطعاً نہیں جائیں گے اور نہ ہی ان کا گھیراؤ کریں گے یا راستہ روکیں گے۔

جلسے کے لیے جگہ کے انتخاب کے لیے عبدالعلیم خان نے سوموار کو رائے ونڈ پر واقع اڈا پلاٹ میدان کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کی۔ انھوں نے کہاکہ جلسے کے لیے اڈا پلاٹ ایک آپشن ہے جو شریف خاندان کے رہائش گاہوں سے کوئی ساڑھے چار، پانچ کلومیٹر دور ہے۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ ان کا مقصد پرامن احتجاج ہے نہ کہ شریف خاندان کے گھروں پر حملہ کرنا، جس کی وہ ضمانت دیتے ہیں، لیکن اگر حکومت نے اس احتجاج میں مداخلت کی تو کارکنوں کا ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کارکنوں کے بےحد اصرار کے باوجود رائے ونڈ میں مقیم سیاسی دشمنوں کے گھر نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے: طاہر القادری

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے تحریک انصاف کے مارچ سے لاتعلقی کے سوال پر عبدالعلیم خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں دراصل غلط فہمی کا شکار ہیں، زیادہ تر اپوزیشن قائدین کا تعلق چونکہ دیگر علاقوں سے ہے تو وہ یہی سمجھے ہیں کہ ہم رائے ونڈ میں جلسہ کررہے ہیں تو شاید ہم شریف خاندان کے گھروں پر حملہ کرنے جارہے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ رائے ونڈ ایک وسیع علاقہ ہے جیسے لاہور شہر کے دیگر علاقے ہیں، اور رائے ونڈ کے کسی ایک حصے میں جلسے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم شریف فیملی کے گھروں پر ہلہ بولنے جارہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی یہ غلط فہمی دور کی جائے گی، یہ صرف جلسہ ہوگا، دھرنا دینے کا کوئی منصوبہ نہیں اور جلسے کے بعد ہم پرامن طور پر منتشر ہوجائیں گے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ تحریک انصاف جہاں چاہے جلسہ کرے لیکن ہمارے گھر نہ جائیں، اگر جائیں گے تو اس کا ردعمل ہو گا۔

زعیم قادری نے بتایا کہ اخلاق کے دائرے میں رہ کر پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن کسی کے گھر پرچڑھائی کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی، اگر ایسا کیا گیا تو نوازشریف کے متوالے اس کا سخت جواب دیں گے۔

زعیم قادری کے مطابق تحریک انصاف اگر شریف فیملی کے گھروں سے ہٹ کر کہیں احتجاج کرتی ہے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ حکومت میں ہونے کے ناتے وہ انھیں ہر ممکن سہولت اور تحفظ فراہم کرے گی۔

ذرائع کے مطابق رائے ونڈ میں جلسے کے لیے تحریک انصاف 30 ستمبر یا یکم اکتوبر میں کسی ایک روز کا انتخاب کرے گی لیکن تحریک انصاف کے قائدین کتنی اپوزیشن جماعتوں کو اس میں شرکت کے قائل کرتے ہیں، یہ یقیناً تحریک انصاف کے قائدین سیاسی صلاحیتوں کا بڑا امتحان ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں