’پاکستان کی جنگ بلاامتیاز کارروائی کے بغیر ختم نہ ہوگی‘

اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک وہ بیرونی ملکوں پر حملہ کرنے والے گروہوں کو برداشت کرتے رہنے کی پالیسی نہیں بدلتا۔

یہ بیان امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے سامنے افغانستان پر ہونے والی ایک بحث کے دوران سامنے آیا۔

سوال جواب کے دوران انتظامیہ کی نمائندگي کرنے والے افغانستان پاکستان کے معاملات کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستانی اہلکاروں کے ساتھ بات چیت میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ انھیں تمام شدت پسند تنظیموں کو بلاامتیاز نشانہ بنانا ہو گا۔

اولسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کی کارروائیاں انتہائی اہم ہیں اور انھیں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے میں کامیابی بھی ملی ہے، تاہم ’پاکستان کو تمام پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی اور ان تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کرنی ہو گی جو پڑوسی ملکوں کو نشانہ بناتی ہیں۔‘

بحث کے دوران کچھ سینیٹروں کی رائے تھی کہ پاکستان قابل اعتماد شراکت دار نہیں ہے اور حقانی نیٹ ورک کا ساتھ دے کر افغانستان میں امریکہ کے خلاف کام کر رہا ہے۔

اس کے جواب میں اولسن کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اس سے خطے میں استحكام قائم ہو گا اور ہمسایہ ملکوں اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دنیا کو یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان افغانستان کی جنگ لڑے گا: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سفیر مليحہ لودھی

ان کا کہنا تھا: ’لیکن اگر پاکستان نے ایسا نہ کیا تو وہ دنیا میں اکیلا رہ جائے گا۔‘

اولسن نے حقانی نیٹ ورک اور انڈیا کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی کہ پاکستان مقامی دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ دوسری تنظیموں کے ساتھ ایک نئی جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں امن سیاسی حل کے ذریعے ہی قائم ہو سکتا ہے اور اس کے لیے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہونا ضروری ہے۔

گذشتہ مہینوں میں امریکی کانگریس میں پاکستان کے خلاف تلخی بڑھی ہے اور اس كا اثر ایف 16 طیاروں کی فروخت اور 30 کروڑ ڈالر کی امداد پر لگائی گئی پابندی کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔

پاکستان کی شکایت رہی ہے کہ وہ شدت پسندي کے خلاف جتنی بھی کارروائیاں کرے اس سے ہمیشہ مزید (’ڈو مور‘) کی توقع کی جاتی ہے۔

بدھ کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سفیر مليحہ لودھی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دنیا کو یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان افغانستان کی جنگ لڑے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں