بلوچستان کا کشمیر سے کوئی موازنہ نہیں: عاصمہ جہانگیر

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان میں انسانی حقوق کی سرگرم رکن اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کی سول سوسائیٹز نے مشترکہ طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جو بربریت ہو رہی ہے وہ یکطرفہ اور بلا جواز ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ وہ اس بات پر بھی متفق ہے کہ کشمیر میں حالیہ عوامی احتجاج میں کسی دوسرے ملک کی شدت پسندی کا ہاتھ نہیں ہے۔

بلوچستان کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور بلوچستان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال اتنی تشویش ناک نہیں جتنی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’شوٹ ٹو کل‘ یعنی دیکھتے ہی گولی مار دینے کی پالیسی جاری ہے جب کہ بلوچستان میں ایسا نہیں ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نوعیت اور ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے جبکہ کشمیر کی نوعیت بالکل مختلف ہے اور کشمیر کے تمام حصے متنازع ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں انسانی حقوق پر یقین رکھنے والے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کرنے والے کارکنوں کو مشترکہ طور پر اس بات پر زور دینا ہوگا کہ کشمیر سے فوجوں کا انخلاءہو۔

کشمیر کے علاوہ انھوں نے کہا کہ سیاچین سے فوجیوں کو بھی واپس بلانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاچین میں فوجیوں کی تعینات غیر انسانی اور غیر منطقی ہے۔

کشمیر کے مسئلہ پر ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ دونوں حکومتوں کا بھی مسئلہ ہے اور بجائے اس کے دونوں ملکوں کے لوگوں کو دور کیا جائے دونوں ملکوں کو قریب لا کر اس مسئلہ کا حل نکالنا ہو گا۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے کے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی تنظیموں سے مسلسل رابطے میں ہیں یہ ان کا روز مرہ کا کام ہے ۔انھوں نے کہا کہ ان رابطوں کا اثر بھی سامنے آیا ہے۔

بھارت کی سول سوسائٹی سے متعلق ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ بھارتی سول سوسائٹی کشمیر کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہے اور ان کا ردعمل بہت حوصلہ افزا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں