انڈے لڑانے کا انوکھا بلوچی کھیل

نازک ہونے کی وجہ سے انڈے کو اٹھاتے اور رکھتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیاجاتا ہے لیکن اس کے برعکس عید کے مواقع پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں اس نازک سی شے کو لڑایا جاتا ہے۔

انڈے لڑانے کے کھیل کا شمار بلوچستان کے قدیم کھیلوں میں ہوتا ہے۔اگرچہ ماضی کے مقابلے میں اس میں کمی آئی ہے تاہم اب بھی عید کے مواقع پر اس کھیل کو کھیلا جاتا ہے۔

کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں عید کے مواقع پر جو میلے لگتے ہیں ان میں انڈے بھی لڑائے جاتے ہیں۔

انڈوں کو لڑانے سے قبل ان کو ابالنے کے علاوہ ان کو مختلف رنگوں میں رنگا بھی جاتا ہے۔ انڈے کو دونوں اطراف سے لڑایا جاتا ہے ۔سب سے پہلے اس کے نوکیلے والے حصے کو دوسرے انڈے سے لڑایا جاتا ہے۔

انڈے کے نوکیلے والے حصے کو سرک کہا جاتا ہے جبکہ اس کے دوسرے حصے کو نک کہا جاتا ہے۔ سرک کی طرح انڈوں کے کونک کو بھی لڑایا جاتا ہے۔

انڈے لڑانے والوں دو افراد میں سے ایک انڈے کو نیچے رکھتا ہے جبکہ دوسرا اس کواوپر سے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے انڈے سے ٹکراتا ہے۔ جس کا انڈا ٹوٹ جاتا ہے وہ ہار جاتا ہے اور وہ ٹوٹا ہوا انڈا جیتنے والے کے حوالے کرتا ہے۔

کوئٹہ شہر کے کیقباد روڈ پر لگے عید میلے میں انڈے لڑانے والے ذاکر حسین نے بتایا کہ انڈوں کو ٹکرانے سے پہلے ان کو دانتوں سے مارکر ان کی مضبوطی کو چیک کیا جاتا ہے۔

’بعض انڈے کمزور ہوتے ہیں یا ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔دانتوں سے ٹھکرانے سے ان کی ساخت کی مضبوطی کا پتہ چلتا ہے۔‘

ذاکر حسین نے بتایا کہ جو انڈا مضبوط ہوتا ہے اس کو لڑانے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی زیادہ انڈے جیتتا ہے تو ان کو فروخت بھی کرتا ہے۔

ایوب خان وردگ اپنے گھر کے چھوٹے بچوں کے ساتھ اس میلے میں آیا تھا۔’مجھے اپنا بچپن یاد آیا اس لیے میں بھی انڈے لڑانے کے لیے بیٹھ گیا۔میں انڈے لڑانے کا بہت شوقین اور تجربہ کار ہوں۔‘

انہوں نے بہت سارے ٹوٹے ہوئے انڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہ سارے انڈے جیت چکے ہیں، وہ ان کو گھر لے جائیں گے، وہ اور بچے ان کو کھائیں گے۔

’عید پر بہت سارے پرانے کھیل اب نظر نہیں آتے ۔اب ان کھیلوں میں سے بس انڈے لڑانے کے علاوہ باقی ایک دو کھیل رہ گئے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات