مہمند میں کرفیو نافذ، ہلاکتوں کی تعداد 30

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ روز نمازِ جمعہ کے دوران گل مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس ہوگئی ہے

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ تحصیل پنڈیالی اور تحصیل انبار سے ملحقہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

اس آپریشن کے دوران متعدد مشکوک افراد کی گرفتاری کی اطلاع موصول ہوئی ہے تاہم سرکاری ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز نمازِ جمعہ کے دوران گل مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس ہوگئی ہے۔

لیوئزحکام ک مطابق سرچ آپریشن بٹ مینا اور ملحقہ علاقوں میں جاری ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہیں اور جگہ جگہ فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ علاقے میں خوف کی فضا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاک افراد کی تدفین ان کے گھروں کی نزدیک کیھتوں میں کی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ ہلاک افراد کی لاشوں کی خراب حالت تھی۔

Image caption مقامی افراد کا کہنا ہے کہ علاقے میں خوف کی فضا ہے

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بارہ سے پندرہ سال کے عمر کے نوجوانوں کی ہے جو کرکٹ میچ کیھلنے کے بعد نماز جمہ کے لیے مسجد میں گئے تھے۔

مہمند ایجنسی کے ایک مقامی شخص شاکر اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں غم کی کیفیت اور سوگ کا سماں ہے۔ مہمند ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ محمود اسلم وزیر کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحیقین کو تین تین لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے افراد کے لیے ایک ایک لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں تاہم شدید زخمیوں کے لیے اگر مزید رقم کی ضرورت پڑتی ہے تو خصوصی فنڈ سے جاری کردیے جائیں گے۔

مسجد میں ہونے والے خودکش دھما کے کی ذمہ داری کلعدم تنظیم جماعت الحرار نے قبول کی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ نماز جمعہ کے دوران علاقے میں مساجد پر کسی قسم کی سکیورٹی تعینات نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ خودکش بمبار باآسانی مسجد میں داخل ہو سکا۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی افغانستان سے متصل سرحدی علاقہ ہے اور ماضی میں یہ علاقہ شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے۔

فوجی آپریشن کے بعد یہ علاقہ شدت پسندوں سے خالی کروا لیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود علاقے میں باردوی سرنگوں کے دھماکوں میں ہلاکتوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

مہمند ایجنسی میں گذشتہ چند ہفتوں سے سکیورٹی اہلکاروں اور حکومت کے حامی قبائلی مشران اور سرداروں پر حملوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں