ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ خواجہ اظہار کو بغیر وارنٹ اور الزام کے گرفتار کیا گیا ہے

کراچی میں پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہارالحسن کو رہا کر دیا گیا ہے۔

خواجہ اظہار الحسن کو گذشتہ روز ان کے گھر سے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کرنے کی پاداش میں معطل کردیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق واقعے کی تحقیقات کا بھی حکم جاری کیا گیا ہے۔

ادھر ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ خواجہ اظہار پر کئی مقدمات دائر ہیں جن میں سے تین سے چار ایسی ایف آئی آر ہیں جن میں انھوں نے ضمانت نہیں کرائی تھی۔

راؤ انوار کے بقول ’ پہلے سے ایف آئی آرز درج تھیں میں نے یہ اقدام اٹھایا تو سیاسی حکومت نے رد عمل کا اظہار کیا اور مجھے معطل کردیا ہے۔‘

سابق ایس ایس پی نے واضح کیا کہ خواجہ اظہار الحسن قانونی طور پر گرفتار ہیں کسی کہ حکم پر انھیں رہا نہیں کیا جاسکتا سوائے عدالت کے حکم پر ۔

ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق کا کہنا تھا کہ پانچ پولیس موبائیلوں میں سوار اہلکاروں نے خواجہ اظہار کے گھر میں داخل ہوکر چادر و چاردیواری کو پامال کیا اور خواتین کو ہراساں کیا۔

خواجہ اظہار کے گھر کے باہر موجود صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ خواجہ اظہار کو بغیر وارنٹ اور الزام کے گرفتار کیا گیا ہے۔

’میں ایس ایس پی راؤ انوار سے وارنٹ گرفتاری مانگتا رہا اور معلوم کرتا رہا کہ کہ الزام بتا دو لیکن انھوں نے وارنٹ دکھائے اور نہ الزام بتایا دن دہاڑے ہم سب کی موجودگی میں انھیں گرفتار کرلیا۔‘

اس سے قبل خواجہ اظہار الحسن کو ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ رینجرز نے حراست میں لیا تھا لیکن چند گھنٹوں کے بعد انھیں رہا کردیا گیا۔ لندن سیکریٹریٹ اور قیادت سے لاتعلقی کی پریس کانفرنس کے موقعے پر بھی خواجہ اظہار ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ موجود تھے۔

دریں اثنا رینجرز نے دعویٰ کیا ہے کہ لانڈھی میں کارروائی کرکے چار ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جن میں سے دو کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں