سوشلستان: کپتانوں کے ٹرینڈز کی بھرمار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption موٹروے پولیس کے اہلکاروں کو مارنے والے فوجی افسروں کے خلاف کارروائی کر کے آئی ایس پی آر پبلک ریلیشن کا فرض نبھا سکتی ہے

سوشلستان میں اس ہفتے ’فوجی کپتان‘ چھائے رہے، چاہے وہ رینکنگ ہوں یا اعزازی۔ اس کے علاوہ اس وقت ’رائے ونڈ پر یلغار‘ کا ٹرینڈ چل رہا ہے کیونکہ ’اتنے سارے یو ٹرنز کے بعد اب یہ مارچ سوشل میڈیا پر ہی ہوتا‘ نظر آ رہا ہے۔

’فوج کی موٹروے پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ‘ لڑائی

ایسا پاکستان میں پہلی بار نہیں ہوا کہ پولیس نے کسی کی دھنائی کی ہو یا کسی نے پولیس کی دھنائی کی ہو مگر اللہ بھلا کرے سوشل میڈیا کا جس پر آنے کے بعد یہ خبر ’ہر اس شخص تک پہنچی جس تک اسے نہ پہنچنے کے لیے بہت کوشش کی گئی۔‘

شروع میں تو اکثریت نے سوشل میڈیا پر ان تصاویر پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا جو کہ بہت بڑی حد تک ’ان چند فوجی اہلکاروں کے خلاف‘ تھا جو ان تصاویر میں ایک پولیس اہلکار کے ’درپے‘ نظر آ رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مگر کافی دیر سے آنے والے آئی ایس پی آر کے بیان کے آتے ہی سوشل میڈیا پر ایکشن کا آغاز ہو گیا۔

لوگوں نے ایک فوجی افسر کی تصاویر نکال کر شیئر کیں جن میں وہ زخمی نظر آ رہے تھے نہ جانے کس بنا پر مگر اس کا موازنہ موٹروے پولیس کی لڑائی سے کیا جا رہا تھا۔

اور حسب توقع ’ایک غلط کام کو دوسرے غلط کام سے موازنہ کر کے کسی طرح ٹھیک ثابت کرنے‘ والوں کی کمی نہیں تھی جنھوں نے موٹروے پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز نکال نکال کر شیئر کیں جن میں وہ ڈرائیوروں کی پٹائی کرتے نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک اچھے فوجی کی یہ ٹویٹ، اور پی ٹی آئی کے ساتھ تعلق رکھنے والے جلال قاضی کی یہ ٹویٹ۔

اور اس کے علاوہ آئی ایس پی آر کی جانب سے لفظ ’سکفل‘ کا استعمال بھی موضوعِ بحث رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مثال کے طور پرایک اچھے فوجی کی یہ ٹویٹ

ضرار کھوڑو نے مشورہ دیا ’موٹروے پولیس کے اہلکاروں کو مارنے والے فوجی افسروں کے خلاف کارروائی کر کے آئی ایس پی آر پبلک ریلیشن کا فرض نبھا سکتی ہے۔ یہ کرنا چاہیے۔‘

کپتان کی خصوصی نمبر پلیٹ والی کار

چونکہ سوشل میڈیا پر موٹروے پولیس کے ساتھ لڑائی کے واقعے کے بعد کافی گرما گرمی تھی تو ایسے میں اگر نمبر پلیٹ پر جی ایچ کیو کی علامت اور ’کپتان‘ کے نام والی ایک ٹویوٹا کرولا کار کی تصویر لوگوں کے ہاتھ آئے تو لوگ پھر کیا کریں گے؟

اس پر تبصروں تجزیوں کی بھرمار ہوئی، صحافیوں نے اور عام صارفین نے خوب ٹویٹ کیے۔ فوج کی محبت میں چند دیوانوں نے تصاویر کو ہی جعلی قرار دے ڈالا۔

بلآخر اللہ بھلا کرے صحافی علی ارقم کا جنھوں نے حقیقت کے بارے میں ٹویٹس کیں جس کے بارے میں مجھے رباب ملک نے توجہ دلائی۔

حسن خان کا تعلق سوات کے علاقے خوازہ خیلہ سے ہے جنھیں خون کی ایک مہلک بیماری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حسن کے والدین نے اپنے بچے کو خوش کرنے کے لیے اپنی نئی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر ان کا نام لکھا

حسن کو اُن کے والدین کی خواہش پر دسمبر 2012 میں جنرل آفیسر کمانڈنگ سوات میجر جنرل غلام قمر نے انھیں اعزازی کپتان بنانے کے احکامات جاری کیے۔

حسن کے والدین نے اپنے بچے کو خوش کرنے کے لیے اپنی نئی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر ان کا نام لکھا جسے کسی موقع پرست نے جانتے بوجھتے ہوئے غلط بنا کر پیش کیا اور بہت سارے صحافیوں نے اسے اپنی بساط کے مطابق اضافتوں کے ساتھ آگے بڑھایا۔

حسن خان کا اپنا فیس بُک پیج ہے جس پر ان کے گھر والے ان کی سرگرمیوں کی تصاویر شیئر کرتے ہیں جن میں ان کی فوج کے سابق سربراہ کے جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ وردی میں تصاویر بھی شامل ہیں۔

کسے فالو کریں؟

ہر ہفتے میری کوشش ہوتی ہے کہ اس جگہ ایسی خواتین کا ذکر کیا جائے جو معاشرے میں اپنا کردار دوسروں سے بڑھ کر ادا کر رہی ہیں۔ اس ہفتے ذکر فیس بُک کی چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سینڈ برگ کا جو خواتین کے حوالے سے بہت سا کام کر رہی ہیں اور ان کی فیس بُک پر اس حوالے سے بہت سی مفید اور کارآمد باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ انہیں آپ اس لنک پر کلک کر کے فالوکر سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصویر

اس تصویر میں جہاں لاہور کی خوبصورتی اور ترقی نظر آتی ہے وہیں اسی شہر کا ایک اور رخ بھی ہے جہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ آپ خود ہی نشاندہی کر لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shehbaz Sharif

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں