افغان طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ

حکومت پاکستان کی طرف سے افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کارڈ میں مزید توسیع نہ دینے کے حالیہ فیصلے سے جہاں عام افغان باشندے مشکلات کا شکار ہیں وہاں اس نئی پالیسی سے پاکستان سے واپس جانے والے ہزاروں افغان طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

پشاور میں بی بی سی فیس بک لائیو میں بات کرتے ہوئے ایک افغان سکول کے سربراہ نقیب اللہ مختار نے کہا کہ افغانستان میں ہر سال یکم سمتبر کو تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے اور اس کا اطلاق پاکستان میں قائم نجی افغان تعلیمی اداروں پر بھی ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان سے آج کل واپس جانے والے افغان طلبہ کا یہ سال تقریباً ضائع ہوگیا ہے کیونکہ وہاں پڑھائی شروع ہوچکی ہے اور یہاں سے جانے والے طلبہ کو اب مشکل ہی سے وہاں داخلہ مل سکے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم افغان تعلیمی اداروں میں اس سال داخلے نہ ہونے کی وجہ سے تمام سکولز بند ہونے کے قریب ہیں وہیں سکولوں کے مالکان شدید مالی دباؤ کا بھی شکار ہیں کیونکہ طلبہ کی تعداد میں کمی کی وجہ سے عمارتوں کے کرائے بڑھتے جارہے ہیں۔

’ہمارے تمام تعلیمی ادارے اس بنیاد پر قائم ہیں کہ ہمیں طلبہ کی طرف سے فیس ملے گی تو ہمارے سکول چلیں گے اور ہم اساتذہ کو تنخواہیں بھی دے سکیں گے اور اس سے ہم بلڈنگز کے کرائے بھی دیتے ہیں لیکن جب طالب علم ہی نہیں آئیں گے تو سکول کیسے چلیں گے؟‘

پشاور میں کئی سالوں سے مقیم ایک افغان طالب علم افتخار نے کہا کہ میٹرک کرنے کے بعد اب وہ نہ پاکستان میں داخلہ لے سکتا ہے اور نہ ہی افغانستان میں کیونکہ دونوں ممالک میں تعلیمی سالوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے جب پشاور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو ان دنوں پولیس کی طرف سے افغان مہاجرین کے مکانات پر چھاپے مارے جا رہے تھے جسکی وجہ سے میں یہاں مزید تعلیم برقرار نہیں رکھ سکا اور اب ایک سال کےلیے میں کہیں داخلہ نہیں لے سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ یہاں ان کی تعلیم اردو اور انگریزی زبانوں میں ہوئی ہے جبکہ افغانستان میں ذریعہ تعلیم دری اور پشتو زبانوں میں ہے جس کی وجہ سے انھیں سخت محنت کرنا ہوگی۔

پشاور یونیورسٹی سے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے والے افغان طالب علم رحیم جان نے کہا کہ حکومت پاکستان ان افغان طلبہ کو اتنی مہلت ضرور دے کہ وہ اپنا تعلیمی سلسلہ مکمل کرسکیں کیونکہ یہ ان کے مستقبل کا معاملہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں جانب کی حکومتوں کو چاہیے کہ طلبہ کو خصوصی رعایت دیں تاکہ ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع نہ ہو ورنہ یہ بہت بڑا نقصان ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں