’ذہنی مریض‘ امداد علی کی سزائے موت مؤخر

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈاکٹروں کی جانب سے معذور قرار دیے گئے قیدی امداد علی کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ایک ہفتہ کے لیے 27 ستمبر تک روک دیا ہے۔

امداد علی صوبۂ پنجاب کے ضلع وہاڑی کی ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہاڑی نے بلیک وارنٹ جاری کرتے ہوئے منگل 20 ستمبر کو اسے پھانسی دینے کا حکم جاری کیا تھا۔

امداد علی کی لواحقین سے سوموار کو وہاڑی ڈسٹرکٹ جیل میں آخری ملاقات بھی کرادی گئی۔اس موقع پر لواحقین نے ڈسٹرکٹ جیل کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

جسٹس انور ظہیرجمالی، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطاء بندیال پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے امداد علی کی اہلیہ صفیہ بانو کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت کے دوران عبوری حکم جاری کیا اور محکمۂ داخلہ پنجاب کو 27 ستمبر کو جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔

سپریم کورٹ میں امداد علی کی پھانسی روکنے کے لیے درخواست سرگرم غیرسرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے دائر کی تھی۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیرسٹر سارہ بلال نے امداد علی کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک امداد علی کے کیس کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جاتا اس کے اہل خانہ بے یقینی کا شکار رہیں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد طبی ماہرین نے امداد علی کی پھانسی پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان کے مختلف طبی اداروں سے وابستہ 14 بڑے ماہرین نفسیات نے سنیچر کو ایک کھلے خط میں امداد علی کو ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے اس کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ امداد علی جیسے ذہنی مریض کو پھاسنی کی سزا طبی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

پچاس سالہ امداد علی نے 21 جنوری 2001 کو بورے والا میں ایک مدرس حافظ عبداللہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ 2002 میں انھیں سیشن کورٹ نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ یہ سزا ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھی۔ تاہم امداد علی کی اہلیہ صبیحہ بانو کا کہنا ہے کہ امداد قتل سے بہت پہلے ذہنی مریض بن چکا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں