راؤ انوار معطلی، چیف سیکریٹری اور آئی جی کو نوٹس جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عبدالغنی سومرو پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ملیر کے سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو معطل کرنے کے خلاف دار آئینی درخواست پر سندھ کے چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 ستمبر کو جواب طلب کیا ہے۔

راؤ انوار نے بیرسٹر صلاح الدین احمد کے ذریعے یہ درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت دائر تین مقدمات میں نامزد ملزم خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کیا تھا لیکن حکومت سندھ نے انھیں معطل کرکے چارج ایس ایس پی کورنگی کو دے دیا۔

درخواست گزار نے معطلی کو غیر قانونی قرار دیا ہے کیونکہ بقول ان کے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار پولیس کو حاصل ہے اور قانون کے تحت پولیس کو بغیر کسی فریق کے کارروائی کرنی چاہیے۔

یاد رہے کہ تین روز قبل گرفتاری کے وقت اور بعد میں ایس ایس پی راؤ انوار نے کہا تھا کہ انھوں نے خواجہ اظہار کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم آئینی درخواست میں انھوں نے یہ گرفتاری تفتیشی افسر کے کندھوں پر ڈال دی ہے اور کہا کہ وہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجود تھے۔

’مقدمے کے تفتیشی افسر نے دوپہر کو ساڑہ تین بجے خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کیا۔ ایک گھنٹے کے اندر سیاسی بنیادوں پر انھیں رہا کردیا گیا۔ آئی او نے بتایا کہ چیف سیکریٹری نے حکم کیا ہے کہ انھیں معطل کردیا گیا ہے جبکہ بعد میں آئی او نے انھیں آگاہ کیا کہ آئی جی نے حکم جاری کیا ہے کہ خواجہ اظہارالحسن کو شواہد اور ثبوتوں کی عدم دستیابی پر رہا کردیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

راؤ انوار نے اپنی موجودگی کے بارے میں درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ماضی میں بھی خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ ان کا موقف تھا کہ موجودہ وقت بھی خدشہ تھا کہ کارکن انھیں گرفتاری سے بچانے کے لیے گڑ بڑ کرسکتے ہیں اسی لیے ان کی قیادت میں بھاری نفری تعینات تھی۔

ایس ایس پی راؤ انوار نے چیف سیکریٹری کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا ہے اور کہا کہ انھیں ایس ایس پی رینک کے افسر کو معطل کرنے کا اختیار حاصل ہی نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے معطلی کی حکم انھیں نہیں ملا۔ لہٰذا معطلی کو غیر قانونی قرار دے کر فریقین کو مزید اقدام لینے سے روکا جائے۔

واضح رہے کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے گلبرگ میں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی راؤ انوار کو معطل کردیا بعد میں پولیس نے ناکافی شواہد اور ثبوت ہونے کو جواز بناکر خواجہ اظہار الحسن کو رہا کردیا۔

دوسری جانب خواجہ اظہار الحسن نے سندھ ہائی کورٹ سے 50، 50 ہزار کے مچلکے پر تین مقدمات سے حفاظتی ضمانت حاصل کرلی ہے۔

خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا ہر ذمہ دار اپنے اوپر عائد الزامات کا عدالت میں سامنے کرنے کے لیے تیار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں