پاناما لیکس:’قانونی تقاضے پورے کیے تو ثبوت پیش کریں‘

Image caption ایف بی آر کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ اُنھوں نے اُن تمام افراد کو نوٹسز بھجوائے ہیں جن کی آف شور کمپنیاں ہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اگر پاناما لیکس کے بارے میں حکومت یہ تصور کرتی ہے کہ وہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں تو اس بارے میں ثبوت کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔

منگل کو پاناما لیکس سے متعلق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو اس معاملے کو ایک گھنٹے میں حل کرسکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ادارے بتائیں کہ اس معاملے میں ا ب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن شیخ روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ اُن آف شور کمپنیوں کی تحققیقات ہونی چاہیے جو سنہ 1980میں بنائی گئی تھیں۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور اس لیے پاناما لیکس سے متعلق بل پارلیمنٹ میں لے کر آئے ہیں۔

سیکریٹری قانون کرامت نیازی نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رولز کے مطابق متعقلہ کمیٹی پاناما لیکس کے معاملے پر اجلاس بلانے کا استحقاق نہیں رکھتی جس پر کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سب سے مقدم ادارہ ہے اس لیے اسے یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی قومی معاملے پر اجلاس کو طلب کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور اس لیے پاناما لیکس سے متعلق بل پارلیمنٹ میں لے کر آئے ہیں

ایف بی آر کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ اُنھوں نے اُن تمام افراد کو نوٹسز بھجوائے ہیں جن کی آف شور کمپنیاں ہیں تاہم ابھی تک ان نوٹسز کا جواب ابھی تک موصول نہیں ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق پاناما لیکس میں چار سو پاکستانیوں کے نام آئے ہیں جنھیں نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ جن افراد کو ایف بی آر سے نوٹسز بجھوائے گئے ہیں اُن میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام بھی شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ اگر ایسے معاملے کی تحقیقات کے لیے قانون میں کوئی سقم موجود ہے تو اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں چاہے وہ جتنے اہم عہدے پر ہی فائض کیوں نہ ہوں اُنھیں عہدوں سے ہٹا کر اُن کے خلاف تحقیقات کرنی چاہیے۔

انھوں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیکریٹری قانون کے خلاف رولنگ دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن شیخ روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ اُن آف شور کمپنیوں کی تحققیقات ہونی چاہیے جو سنہ 1980میں بنائی گئی تھیں

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی عبدالمنان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد شیخ رشید کمیٹی کے اجلاس سے واک آوٹ کر گئے۔

سٹیٹ بینک کے گورنر اشرف وتھرا نے کمیٹی کے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اقدامات کرنا سٹیٹ بینک کا کام ہے اور متعقلہ حکام اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2007 سے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

سٹیٹ بینک کے گورنر کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں آف شور کمپنیوں کے ذریعے جائز کاروبار ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی ڈھائی سو کے قریب کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ حوالہ اور ہنڈی کے کاروبار کی نگرانی اُن کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں