’اوڑی حملے کا کوئی ثبوت انڈیا کے پاس موجود نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ابھی تک انڈیا کے پاس اوڑی سیکٹر میں ہونے والے حملے کے ثبوت موجود نہیں ہیں

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں بریگیڈ ہیڈ کوراٹر پر حملے کے ثبوت بھارت کے پاس خود موجود نہیں ہے تو پھر پاکستان کن افراد کے خلاف کارروائی کرے۔

جمعے کے روز نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ انڈیا کی طرف سے جو الزام لگایا گیا ہے وہ صرف پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈین قیادت نے ماضی میں اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب اُن کی بات پر یقین کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ابھی تک انڈیا کے پاس اوڑی سیکٹر میں ہونے والے حملے کے ثبوت موجود نہیں ہیں اور بھارتی تحقیقاتی ایجنسیاں ابھی تک یہ طے نہیں کر سکیں تو حملہ کہاں سے اور کیسے ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈیا کے ڈی جی ملٹری آپریشن کی طرف سے ایک بیان منسوب کیا گیا کہ اُنھوں نے پاکستان سے اس واقعے سے متعلق ثبوت مانگے ہیں جبکہ بعد میں اُنھوں نے خود ہی اس بیان کی تردید کی۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے اپنے ملک میں میڈیا پر سنسر شپ عائد کر رکھی ہے جبکہ پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اوڑی میں حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی آئی ہے

اُنھوں نے کہا کہ اوڑی سیکٹر میں حملے کی جواب دہی انڈیا کو ہی کرنی ہے پاکستان کو نہیں اس کے علاوہ انڈیا کو ہی جواب دہ ہونا پڑے گا کہ اُن کی قیادت نے پاکستان پر الزامات کیوں لگائے۔

ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ بلوچ قوم پرست رہنما براہمداغ بگٹی کو پاکستان لانے کے لیے انٹرپول کو خط لکھے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ براہمداغ بگٹی کو بھارت میں سیاسی پناہ دینے کا اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کون کروا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اب تک 2000 غیر ملکیوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستانی شناختی کارڈ واپس کیے ہیں جبکہ اب تک 50 ہزار شناختی کارڈ بلاک کیے جا چکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کو جعلی پاکستانی شناختی کارڈ جاری کیا گیا جس کی جواب دہی حکومت کو اقوام متحدہ میں دینی پڑ رہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اب تک نادرا کے 18 اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے جو جعلی شناختی کارڈ بنانے میں ملوث ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں