’انڈیا سندھ طاس معاہدے پر یکطرفہ نظرثانی نہیں کر سکتا‘

بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک تفصیلی معاہدہ ہے، اس میں کوئی ایسی شق نہیں جس کے تحت ایک ریاست یکطرفہ طور پر اس میں نظرثانی کر سکے۔

بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے باہر نکلنے کی کوئی شق نہیں ہے کہ ایک فریق جب چاہیے واک آؤٹ کر جائے اور اگر انڈیا ایسا کرتا ہے تو وہ بین الاقوامی قانون سے متصادم پوزیشن لے رہا ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی نہیں ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے کہ کسی ایک ملک نے کسی بین الاقوامی معاہدے پر نظرثانی کی ہو اور اس کے تحت عائد ذمہ داریاں ادا کرنے سے انکار کیا ہو۔ انھوں نے کہا کہ ایسے معاہدے حکومتوں کی بجائے ریاستوں کے مابین طے پاتے ہیں اور ریاستیں ہی ان پر عمل درآمد کی پابند ہوتی ہیں اور ان سے آسانی سے باہر نہیں نکلا جا سکتا۔

معاہدے پر نظرثانی کے بارے میں انڈین اعلانات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو یہ ایک جارحانہ اقدام تصور ہو گا جس سے امن اور سلامتی کے لیے ایک خطرے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

’اگر ایسی صورت حال ہو تو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اس بارے میں ازخود نوٹس لے سکتے ہیں۔‘

سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے ذمہ دار پاکستان ادارے ارسا کے سابق کمشنر سید جماعت علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ستلج، بیاس اور راوی کے 26 ملین ایکٹر فٹ پانی کی قربانی دے کر سندھ جہلم اور چناب کے پانی کو استعمال کرنے کا حق حاصل کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا کو ان تین دریاؤں کے پانی کے محدود استعمال کا حق حاصل ہے اور وہ محدود طور پانی کو ذخیرہ کر سکتا ہے، بجلی پیدا کر سکتا ہے، زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور پینے کے لیے اپنے شہریوں کو فراہم کر سکتا ہے۔

’اگر ہم قربانی نہ دیتے تو انڈیا راجستھان میں پانی کیسے پہنچا سکتا تھا؟ یہ ہماری قربانی کی ہی نتیجہ تھا کہ انڈیا اندرا گاندھی نہر نکال کر پانی کو راجستھان کے ریگستانوں تک لے جا سکا۔‘

سید جماعت علی شاہ نے کہا کہ انڈیا پہلے بھی حیلے بہانوں کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو متنازع بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

’پہلے کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ نے اپنے بیانات کے ذریعے اسے متنازع بنانے کی کوشش کی، پھر اندرا گاندھی اور واجپئی نے ایسا کیا اور اب وزیر اعظم مودی ایسا کر رہے ہیں۔‘

سید جماعت علی شاہ نے کہا کہ کل وزیر اعظم مودی کہہ رہے تھے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ملکر غربت کے خلاف جنگ کریں گے اور آج اپنے بیان سے پاکستان کے بیس کروڑ عوام کے معاشی قتل کی بات کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اس معاہدے کے بارے میں بہت شعور ہے اور وہ لوگ جو عالمی بینک میں کام کرتے ہیں یا یورپی یونین میں ہیں یا شمالی امریکہ میں ہیں ان کو اس کے بارے میں سب پتا ہے اور وہ اس دھمکی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔

متعلقہ عنوانات