’اصلاحات سے قبل فاٹا میں پائیدار امن کا قیام ترجیح‘

Image caption ’جب تک عدالتی اصلاحات پر مکمل طور پر عمل درآمد شروع نہیں ہوجاتا اس وقت تک ان علاقوں میں رائج جرگہ سسٹم کو ختم نہیں کیا جائے گا‘

پاکستان کے سرحدی اور ریاستی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کی صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام سے پہلے کچھ خاص مقاصد حاصل کیے جائیں گے جن میں ان علاقوں میں پائیدار امن کا قیام اولین ترجیح ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ایک تحریری جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد اس سال کے آخر تک اپنے گھروں میں واپس چلے جائیں گے اور وہاں پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے کروڑوں روپے کی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

* فاٹا میڈیا اور پارلیمان کا موضوع نہیں

*مشاورت کے بغیر فاٹا اصلاحات کس حد تک قابلِ قبول؟

اُنھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران وہاں پر عدالتی اصلاحات بھی لائی جائیں گی اور جب تک عدالتی اصلاحات پر مکمل طور پر عمل درآمد شروع نہیں ہو جاتا اس وقت تک ان علاقوں میں رائج جرگہ سسٹم کو ختم نہیں کیا جائے گا۔

عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ سنہ 2017 کے آخر تک ان علاقوں میں بلدیاتی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ لیویز کی استعداد کار بڑھائی جا رہی ہے تاکہ ان علاقوں میں فوج کے انخلا کے بعد امن و امان کی صورت کو کنٹرول کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد اس سال کے آخر تک اپنے گھروں میں واپس چلے جائیں گے

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے حکمراں جماعت کے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات سے متعلق رپورٹ 95 فیصد حقائق پر مبنی ہے اور وہاں کے لوگ خیبر پختونخوا میں ضم ہونا چاہتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ بغیر کسی ریفرینڈم کے پاکستان کے ساتھ شامل ہوئے تھے لیکن اُنھیں بنیادی حقوق تک فراہم نہیں کیے گئے۔

شہاب الدین نے 1973 کے آئین کو ان علاقوں کے افراد کے ساتھ ہونے والے مظالم کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے منظور ہونے پر شادیانے بجائے گئے لیکن اس دوران بھی فاٹا کے عوام کو نطر انداز کیا گیا۔

شہاب الدین کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں بلدیاتی نظام متعارف کروانے سے پہلے ان علاقوں کے لوگوں کو الیکٹورل کالج میں تو شامل کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں