سارک بروقت طبی امداد کی منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ Syed Akbaruddin
Image caption کٹھمنڈو میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں نواز شریف اور نریندر مودی دونوں شریک ہوئے تھے

اس وقت بھارت اور پاکستان پچھلی گلی میں رہنے والی دو فارغ بیواؤں کی طرح ایک دوسرے پر پرات، لوٹا، دیگچی، کٹورا، پھکنی سمیت جو بھی قیمتی یا غیر قیمتی شے ہاتھ آ رہی ہے، پھینک رہے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ کل صبح انھیں ان چیزوں کی اپنے اپنے باورچی خانے میں دوبارہ ضرورت پڑنے والی ہے۔

سندھ طاس کے بعد اب سارک کی حرمت پر بھی اچک اچک کے ہاتھ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے، یہ خیال کیے بغیر کہ دو طرفہ اور علاقائی فائدے کی نیت سے سارک کسی نے انڈیا اور پاکستان کے کان پکڑ کے مرغا بنوا کے نہیں بنوائی تھی بلکہ دونوں نے برضا و رغبت اس کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔

ذرا یاد کیجیے کہ ڈھاکہ میں 31 برس پہلے دسمبر 1985 میں ہونے والی پہلی سربراہ کانفرنس میں شریک سات ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت نے کیسے کیسے خواب دیکھے اور دکھائے تھے۔

’ہم فری ٹریڈ زون بن جائیں گے، یورپی یونین کی طرح کا اقتصادی اتحاد ہو جائیں گے، جنوبی ایشیا میں رہنے والی دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کو غربت کے چنگل سے نکالیں گے، جب اقتصادی و علاقائی مفادات ایک دوسرے سے جڑیں گے تو پھر دوطرفہ پیچیدہ سیاسی معاملات کی گرہ بھی کھلنی شروع ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔۔۔‘

پچھلے 31 برس میں سارک نے اگرچہ کچھوے کے بجائے گھونگے کی رفتار سے سفر کیا، لیکن یہ اطمینان اپنی جگہ برقرار رہا کہ سست رفتاری ہی سہی مگر رفتار تو ہے۔

چونکہ سارک کے آٹھ میں سے دو ممالک کا وزن باقیوں کے وزن سے کہیں زیادہ ہے لہٰذا یہ دونوں بڑے چاہتے تو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سارک کو آگے لے جانے والا انجن بھی بن سکتے تھے جیسا کہ جرمنی اور فرانس یورپی یونین کے لیے ثابت ہوئے۔ مگر دونوں بڑوں کو دو طرفہ معاندانیت نے اتنا چھوٹا کر دیا کہ سارک کے جسم سے بندھا ایسا بھاری پتھر بن گئے جو تنظیم کو نہ پوری طرح نیچے لے جا رہا ہے نہ ابھرنے دے رہا ہے۔

سارک اب ایسا ٹینس کورٹ ہے جس میں انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کو سروس کراتے ہیں اور باقی کھلاڑی رانوں پر ریکٹ رکھ کے مسلسل تالیاں پیٹنے اور امپائر کی طرح ٹینس بال کو پنڈولم کی طرح ادھر اور پھر ادھر جاتے دیکھنے پر مجبور ہیں۔

میڈیا کے نقطۂ نظر سے آج تک جتنی بھی سارک کانفرنسیں ہوئیں ان کا فوکس انڈیا اور پاکستان کے رہنماؤں کا رویہ، باڈی لینگویج، چہرے کے تاثرات ہی رہے اور باقی پانچ بنیادی ممالک ( بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ) کے رہنما گروپ فوٹو کی شوبھا بڑھانے کے کام آتے رہے۔ اور اس گروپ فوٹو کا کیپشن ہمیشہ یہی رہا کہ ’سارک کانفرنس۔ بھارت اور پاکستان کے ساتھ دیگر بھی نمایاں ہیں۔‘

سارک کانفرنس پر کڑا وقت بھی آیا۔ جیسے سنہ 2002 میں دلی میں لوک سبھا کی عمارت پر دہشت گرد حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کی افواج کے آمنے سامنے آنے کے سبب کٹھمنڈو میں ہونے والے سربراہ اجلاس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا۔

بھارت نے اپنی حدود سے پاکستانی طیاروں کے گزرنے پر پابندی بھی لگا دی، مگر بلوغت بروقت کام آئی۔ بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی اس کانفرنس میں شریک ہوئے جبکہ پاکستانی صدر پرویز مشرف کا طیارہ چین کی فضائی حدود سے گزر کر کٹھمنڈو پہنچا۔ اس قدر کشیدگی کے باوجود جب کانفرنس کے دوران صدر پرویز مشرف اپنی تقریر ختم کر کے اچانک سیدھے واجپائی کی طرف گئے اور ہاتھ آگے بڑھا دیا تو واجپائی کو بھی مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھانا ہی پڑا۔

اس مصافحے سے برف پگھلنے لگی اور پہلی بار یوں لگا کہ سارک کا پلیٹ فارم واقعی کام کی شے ہے۔

اگرچہ سارک کے چارٹر میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر صرف وہی موضوعات زیرِ بحث آ سکتے ہیں جن کا تعلق جنوبی ایشیا کی اجتماعی زندگی یا مسائل سے ہو، دو طرفہ تنازعات پر گفتگو کی گنجائش نہیں۔

تاہم 31 برس میں اس مرتبہ پہلی بار یہ ہو رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے دو طرفہ مسائل کی دھول سارک کی اجتماعی روح پر برس رہی ہے۔ پہلی بار سارک عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔ایک جانب بھارت اور اس کے تین اتحادی یعنی بنگلہ دیش، بھوٹان، افغانستان اور دوسری جانب غصیلا پاکستان اور حیران و پریشان غیر جانبدار نیپال، مالدیپ اور سری لنکا۔

سارک سربراہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی دفترِ خارجہ کے ترجمان وکاس سروپ نے کہا کہ علاقائی تعاون اور انتہا پسندی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ حالانکہ تین عشروں پہلے سارک ایسے ہی مسائل سے نمٹنے کی خاطر علاقائی تعاون کے لیے بنائی گئی تھی۔

کیا سارک آج عملاً گروہ بندی کا شکار ہو کے مر گئی؟ شاید نہیں۔ البتہ شدید زخمی ضرور ہوئی ہے۔ بروقت طبی امداد نہ ملنے اور زائد خون بہنے سے مر بھی سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں