انڈیا کا سرجیکل سٹرائیکس کا دعویٰ، پاکستان کا انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee BBC
Image caption لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ سرجیکل سٹرائیکس کن علاقوں میں کی گئیں

انڈیا نے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد پار فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیکس کا رنگ دینا حقیقت کو مسخ کرنے کے برابر ہے۔

انڈین وزارت دفاع نے کہا ہے کہ بدھ کی شب کی جانے والی اس کارروائی میں متعدد شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے دو پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

٭ ’پاکستان کو پوری دنیا میں تنہا کر دیں گے‘

٭ پاکستانی فوج پر لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا الزام

جمعرات کو نئی دلی میں انڈین وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انڈین برّی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے بتایا کہ ’سرجیکل آپریشن کنٹرول لائن پر نصف رات شروع ہوا اور صبح تک چلا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق فائرنگ بدھ کی شب رات ڈھائی بجے شروع ہوئی اور صبح آٹھ بجے تک جاری رہی

انھوں نے کہا کہ کنٹرول لائن کے اُس جانب ’دہشت گرد جموں و کشمیر اور ملک کے دوسرے شہروں میں تخریب کاری کی غرض سے دراندازی کے لیے جمع ہوئے تھے جنھیں ختم کر دیا گیا ہے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے کہا کہ اس کارروائی میں ’متعدد دہشت گرد اور ان کے سہولت کار مارے گئے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کن علاقوں میں کی گئیں۔

اس نیوز کانفرنس سے قبل انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سلامتی سے متعلق کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت بھی کی۔

اس اجلاس میں وریر دفاع ، وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اور بری فوج کے سربراہ بھی شریک تھے۔

انڈیا کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد جمعرات کو پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں کوئی سرجیکل آپریشن نہیں کیا ہے تاہم انڈین فوج نے لائن آف کنٹرول پر کیل، بھمبر اور لیپا سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ ضرور کی ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’مبینہ دہشت گردوں کے اڈوں پر سرجیکل حملوں کا تصور انڈیا کی جانب سے جان بوجھ کر تشکیل دیا گیا ایک ایسا فریبِ نظر ہے جس کا مقصد غلط تاثر دینا ہے۔‘

فوج کے بیان کے مطابق ایل او سی پر فائرنگ بدھ کی شب رات ڈھائی بجے شروع ہوئی اور صبح آٹھ بجے تک جاری رہی اور اس سے پاکستان کے دو فوجی ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی افواج نے بھی ’انڈین جارحیت‘ کا بھرپور جواب دیا اور اگر پاکستانی سرزمین پر سرجیکل حملوں کیے گئے تو ان کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گذشتہ رات انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پانچ سیکٹرز میں چھوٹے ہتھیاروں کااستعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں دو پاکستانی فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی اس بلا اشتعال فائرنگ کا پاکستانی افواج نے بھر پور جواب دیا اور اسی انداز میں جواب دیا جس انداز میں وہاں سے فائرنگ ہوئی۔‘

ان کے مطابق سرحد پار ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں فی الحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انڈیا کی جانب سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صرف اپنے میڈیا اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ بھی انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کا اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں انڈین فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی فائرنگ سے پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں

اس حملے میں 18 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔

ادھر وادی نیلم کے ڈپٹی کمشنر عبدالوحید خان نے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے باعث سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ ضلع بھر میں لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی لگا دی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے لائن آف کنڑول پر انڈین فوجی چوکیوں کے سامنے سے گزرنے والی مرکزی شاہراہ پر ایک وقت میں ایک سے زائد گاڑیوں کے سفر کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ انڈین افواج صرف پاکستان کی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن سیاحتی مقامات پر آنے والے سیاح خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ حالات خراب ہونے پر انھیں مطلع کر دیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں