BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 13 April, 2007, 13:25 GMT 18:25 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پارہ چنار میں کرفیو میں نرمی
 

 
 
رہائشی علاقوں میں میزائیل کے ٹکڑے
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ایک ہفتے کے کرفیو کے بعد انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کو پہلی دفعہ دو گھنٹے نرمی دی گئی جبکہ مرکزی ٹل پارہ چنار سڑک بدستور عام ٹریفک کے لئے بند ہے۔

دوسری طرف امن جرگہ کی طرف سے فریقین کے مابین مسقتل اور تحریری معاہدے کرنے کے لئے مزاکرات جاری ہیں۔

کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار سے موصول ہونے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دوپہر کے وقت مقامی انتظامیہ کی جانب سے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے کرفیو میں تین بجے سے لیکر پانچ بجے تک نرمی کے اعلانات کیے گئے جس کے بعد بازار اور دکانیں کھول گئیں۔

ایک عینی شاہد نے پارہ چنار بازار سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ سکیورٹی فورسزز بازار میں مختلف جگہوں پر مارٹر، توپ، میزائل اور راکٹ لانچرکے گولے اکھٹا کررہے ہیں جو کسی وجہ سے نہیں پھٹ سکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دکانیں کھلتے ہی بازار میں رش دیکھا گیا اور مقامی لوگ اشیاء خورد و نوش کی چیزیں خرید کرگاڑیوں میں ڈال رہے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے بازار کے اندر بندوق اور دیگر اسلحہ لیکر چلنے پر پابندی لگادی ہے جبکہ خلاف ورزی پر گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دکانیں کھلتے ہی بازار میں رش
 دکانیں کھلتے ہی بازار میں رش دیکھا گیا اور مقامی لوگ اشیاء خورد و نوش کی چیزیں خرید کرگاڑیوں میں ڈال رہے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے بازار کے اندر بندوق اور دیگر اسلحہ لیکر چلنے پر پابندی لگادی ہے جبکہ خلاف ورزی پر گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔
 
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ بازار کے تمام کونوں پر فوجی اور نیم ملیشیاء کے دستے تعینات ہیں۔

ادھر دوسری طرف لڑائی کی وجہ بند ہونے والی ٹل پارہ چنار شاہراہ بدستورعام ٹریفک کے لئے بند ہے۔ تاہم توقع کی جارہی ہے کہ فریقین کے مابین تحریری معاہدے کے بعد سنیچر سے ایجنسی میں تمام سٹرک عام ٹریفک کے لئے کھول دیے جائیں گے۔

گزشتہ جمعہ کو پارہ چنار میں فریقین کے مابین مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جو بعد میں قریبی علاقوں تک پھیل گئے تھے۔ اس لڑائی میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع کا کہناہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہے۔

ادھر گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف سے ہنگو اور اورکزئی کے شعیہ سنی عمائدین پر مشتمل جرگہ نے جمعرات کے روز فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کرانے کے بعد مستقل اور تحریری معاہدے کے لئے کوششیں تیز کردی ہے۔

جمعہ کو جرگہ ممبران نے اس سلسلے میں پارہ چنار میں سنی عمائدین سے بات چیت کی۔ توقع کی جارہی ہے کہ شام تک دونوں فریق معاہدے پر دستخط کرلیں گے۔

 
 
فسادات جاری ہیں
کرم ایجنسی فسادات میں درجنوں ہلاک
 
 
’ ہم مر جائیں گے‘
پارا چنار میں کرفیو سے راشن و ادویات کی کمی
 
 
زخمیوں کے بیانات
’کرم ایجنسی میں بڑے پیمانے پر لڑائی‘
 
 
کرم میں فرقہ واریت
پارہ چنار کے علاقے میں تصادم کیسے شروع ہوا؟
 
 
کرم ایجنسی
کرم ایجنسی کے فسادات کی تصاویر
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد