http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 14 December, 2007, 12:21 GMT 17:21 PST

عبدالحئی کاکڑ، دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان

طالبان کی مشترکہ تنظیم کا قیام

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں مبینہ طور پر سرگرم طالبان کے مختلف گروپوں نے متحد ہو کر جنوبی وزیرستان میں طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی قیادت میں’ تحریک طالبان پاکستان‘ کے نام سے ایک نئی تنطیم تشکیل دینے کادعوی کیا ہے۔

طالبان نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ حکومت پاکستان کے ساتھ جنگ یا معاہدہ کسی ایک علاقے کی سطح پر نہیں بلکہ نئی تنظیم کے فیصلے کے تحت متفقہ طور پر کیا جائے گا۔

جنوبی وزیر ستان سے مقامی طالبان کے کمانڈر بیت اللہ محسود نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جمعہ کو جنوبی وزیر ستان میں سات قبائلی ایجنسیوں جنوبی و شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ، اورکزئی، خیبر اور مہمند ایجنسی کے علاوہ صوبہ سرحد کے ملاکنڈ ڈویژن یعنی بونیر، سوات، کوہستان اور درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے طالبان کے مختلف گروپوں کے تقریباً بیس نمائندوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ’ تحریک طالبان پاکستان‘ کے نام سے ایک نئی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔

انکے بقول اجلاس کے دوران ایک چالیس رکنی شوریٰ بھی تشکیل دی گئی جس کے امیر انہیں (بیت اللہ محسود) او ترجمان مولوی عمر نامی شخص کو چنا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا اس نئی تنظیم کا قیام طالبان کے مختلف گروپوں کے رہنماؤں کےدرمیان ایک ماہ کے مسلسل رابطوں کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔

بیت اللہ محسود کا مزید کہنا تھا کہ نئی تنظیم کا مقصد حکومت کی جانب سے انکے خلاف کارروائیوں کا متحد ہوکر دفاع کرنا ہے اور بقول انکے’آئندہ حکومت کو بھر پور جواب دیا جائے گا جس سے اس کا دماغ ٹھکانے آجائےگا۔‘

کارروائیاں، مذاکرات، معاہدے
 حکومت سوات میں طالبان کو کچلتی ہے، باجوڑ میں مذاکرات کرتی ہے جبکہ وزیرستان میں معاہدہ کرتی ہے لیکن اب اسطرح نہیں ہوگا ہماری جنگ یا معاہدہ ایک ہوگا۔حکومت پاکستان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم اپنے ملک کے اندر ہی ’دفاعی جہاد‘ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں
 
مولوی عمر

خود کو ’تحریک طالبان پاکستان‘ نامی اس مبینہ تنظیم کے ترجمان کہلوانے والے مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ حکومت کے ساتھ علاقے کی سطح پر نہیں بلکہ نئی تنظیم کے فیصلوں کے تحت متفقہ طور پر معاہدہ یا جنگ ہو گی جسکے لیے بقول انکے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

انکے بقول’ حکومت سوات میں طالبان کو کچلتی ہے، باجوڑ میں مذاکرات کرتی ہے جبکہ وزیرستان میں معاہدہ کرتی ہے لیکن اب اسطرح نہیں ہوگا ہماری جنگ یا معاہدہ ایک ہوگا۔‘

مولوی عمر کا مزید کہنا تھا کہ اجلاس میں سوات میں فوجی آپریشن بند کرنے اور وہاں سے فوج کے انخلاء کے لیے حکومت کو دس دن کا ’الٹی میٹم‘ دیا گیا گیا ہے اور اسکے علاوہ جنوبی، شمالی وزیرستان اور سوات میں فوجی چیک پوسٹیں ختم کرنے اور لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز سمیت طالبان کے گرفتار ہونے والے تمام ساتھیوں کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
طالبان نے مولانا عبدالعزیز کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے

ایک سوال کے جواب میں مولوی عمر کا کہنا تھا کہ پاکستانی طالبان کا اصل ہدف افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو فورسز کے خلاف مزاحمت کرنا ہے لیکن حکومت پاکستان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے وہ اپنے ملک کے اندر ہی ’دفاعی جہاد‘ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اجلاس میں سوات میں مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ کے ایک اہم ساتھی مولوی عبدالغفور اور ایک اور نمائندے نے بھی شرکت کی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں مبینہ طالبان کے خلاف فوجی کاروائیوں کے چند سال بعد پہلی مرتبہ ایسا ہورہا ہے کہ علاقائی بنیادوں پر تقسیم طالبان کے کئی گروپ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر نئی تنظیم کے قیام کا دعوی کر رہے ہیں۔

دریں اثناء شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے سکاؤٹس قلعہ میرانشاہ اور سکیورٹی چیک پوسٹوں پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی ہے لیکن دونوں جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ جمعہ کے صبح سے میرانشاہ اور رزمک شاہراہ کو سکیورٹی فورسز نے ہرقسم کی ٹریفک بند کردیا ہے۔
اکتوبر میں لڑائی سے تنگ آ کر میرانشاہ سے کئی لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات مسلح مقامی طالبان نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں سکاؤٹس قلعہ میرانشاہ اور قلعہ کے قریب سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر راکٹوں اور خودکار ہھتیاروں سے حملہ کیا۔حکام کے مطابق تین راکٹ قلعہ کے قریب ایک خالی میدان میں گرے ہیں۔

حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جس میں سکیورٹی فورسز نے توپخانے کا استعمال بھی کیا، لیکن دونوں جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

یاد رہے کہ مقامی طالبان نے دو دن قبل میرانشاہ سے رزمک جانے والے قافلے پر دوسلی کے قریب راکٹوں سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں حکام کے مطابق چھ اہلکار ہلاک جبکہ تیس زخمی ہوگئے تھے۔