BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 January, 2008, 12:14 GMT 17:14 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سندھ ہنگامے: مرحوم، نابینا اور معذور ملزم
 

 
 
محبوب حسین بھٹی
محبوب حسین بھٹی اپنے مرحوم والد کی تصویر کے ہمراہ
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد صوبہ سندھ میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد پونے دو ہزار سے زائد مقدمات دائر کیے گئے ہیں جن میں چار لاکھ سے زائد افراد کو ملوث قرار دیا گیا ہے۔

ان میں سے ہزاروں ملزم نامزد جبکہ دیگر نامعلوم قرار دیے گئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے نامزد ملزمان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو انتقال کر چکے ہیں جبکہ کچھ عمر رسیدہ، معذور یا نابینا ہیں۔

خیرپور میں ایک لاکھ سے زائد، نوشہرو فیروز میں پچھہتر ہزار اور ٹھٹہ ضلع میں اکانوے ہزار سے زائد افراد پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

نوشہرو فیروز کی تحصیل مورو تھانے پر حملے کے الزام میں نامزد ملزمان میں سے چار تو وہ ہیں جو گزشتہ چھ برس کے دوران انتقال کرچکے ہیں۔مرحوم محمد حسین بھٹی پر الزام ہے کہ انہوں نے ہنگامہ آرائی کی۔ مرحوم مولا بخش اور ٹھارو خان پر بھی یہی الزام ہے۔

محمد حسین بھٹی کے بیٹے محبوب بھٹی کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی وفات سنہ دو ہزار میں ہوئی تھی مگر پولیس کہتی ہے کہ انہوں نے تھانے پر حملہ کیا ہے اور گاڑیاں جلائی ہیں۔ محبوب حسین بھٹی کے مطابق’پولیس نے یہ مقدمہ مقامی سیاست دان کے کہنے پر دائر کیا ہے اور ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں‘۔

اسی نوعیت کے مقدمات ٹھٹہ ضلع کے تھانے میرپور ساکرو میں بھی دائر کیے گئے ہیں، جن میں سے نامزد تین ملزمان پھلوان شیدی، محمد ہاشم وریو اور یامین منگنہار کئی سال قبل انتقال کر چکے ہیں۔

سو سالہ فضل محمد پر تھانے پر حملہ کرنے کا الزام ہے

مورو کے رہائشی فضل محمد جیسر کی عمر ایک سو سے زائد ہے وہ بستر سے اٹھ نہیں سکتے لیکن ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد جلوس کے ساتھ تھانے پر حملہ کیا اور فائرنگ کی۔ بزرگ فضل محمد بینظیر کی ہلاکت اور ان پر دائر مقدمے دونوں سے لاعلم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’عمر کے آخری حصے میں کیسی صحت ہوگی۔ بس ہاتھ پاؤں ادھر ادھر کرلیتا ہوں اس طرح زندگی چل رہی مگر جسم میں سکت نہیں ہے‘۔

ٹھٹہ کے علاقے میرپور ساکرو میں ایک کریانہ کی دکان میں سے لوٹ مار کرنے کا مقدمہ دو ایسے افراد پر بھی دائر کیا گیا ہے جو دونوں نابینا ہیں۔ حاجی خان سومرو اور نور گبول پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں عمر رسیدہ اور نابینا ہیں۔ اس طرح ہنگورجا میں بھی ایک نابینا شخص پر لوٹ مار کا مقدمہ دائر ہے۔ پولیس نے انہیں گرفتار بھی کیا مگر اخلاقی دباؤ کے تحت انہیں رہا کر دیا۔

سندھ بھر میں دائر کیے گئے مقدمات کی نوعیت جہاں سیاسی ہے وہاں ذاتی اختلافات اور دیرینہ دشمنی کا رنگ بھی نظر آتا ہے۔ جس کی ایک مثال نوشہرو فیرروز ہے جہاں یونین کونسل کے ناظم ڈاکٹر قدیر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک سو سالہ قدیمی سکول میں توڑ پھوڑ کی ہے جبکہ ڈاکٹر قدیر کا کہنا ہے کہ وہ اسی سکول کی بہتری و ترقی اور اس کے پلاٹ پر قبضے کے خلاف سرگرم رہے ہیں ۔

لطیف سوڈڑو
صحافیوں کو بھی ان مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے: لطیف سوڈڑو

ڈاکٹر قدیر کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے کے تحت قدیمی اسکول جلایا گیا ہے تاکہ جو لوگ تعلیم کے فروغ اور اسکول کی ترقی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں انہیں کچھ سزا دی جا سکے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مقدمات کو پولیس اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، جن مقدمات میں نامعلوم ملزمان نامزد ہیں پولیس شک کی بنیاد پر ان لوگوں کو ہراساں کر رہی ہے۔

رانی پور کے لاک اپ میں ایک دس سالہ بچے عرفان جوگی سے ملاقات ہوئی، جس پر الزام تھا کہ اس نے ہنگورجا میں ایک نجی ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ عرفان کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں تھا مگر پھر بھی وہ بڑوں کے ساتھ لاک اپ میں قید رہا۔ بعد میں پولیس نے بچے کو رہا کردیا مگر بھیک مانگ کر گزراہ کرنے والے اس بچے کو چار روز تک لاک اپ کی ہوا کھانا پڑی۔

ہنگامہ آرائی کے مقدمات میں نامزد ملزمان میں سے کئی سرکاری ملازم ہیں جن میں اساتذہ اور خود پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ کوٹ ڈیجی کے امداد حسین ملاح ٹیچر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت سے قبل خالہ کے انتقال کی وجہ سے سکھر گئے ہوئے تھے مگر جب واپس آئے تو انہیں پتہ چلا کہ ان پر گاؤں سے تیس کلومیٹر دور ایک کمرے پر مشتمل نجی ہسپتال پر حملے کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

امداد حسین ملاح بتاتے ہیں کہ ’مقامی وڈیرے چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں ہراساں کرکے ووٹ حاصل کر لیں لیکن یہاں کا جو نوجوان طبقہ ہے وہ باشعور ہے اور وہ پیپلز پارٹی کی طرف مائل ہیں، ان کا بھٹو خاندان سے دلی لگاؤ ہے‘۔

صفدر حسین
سپاہی صفدر حسین ضلعی پولیس افسر کے کنٹرول روم میں ٹیلیفون آپریٹر ہیں

عبدالقادر میمن ہنگورجا پولیس چوکی کے وائرلیس آپریٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے دوران وہ اپنی ڈیوٹی پر موجود تھے اور اس کے گواہ دیگر پولیس اہلکار بھی ہیں لیکن کیونکہ انہیں پیپلز پارٹی کے دور میں ملازمت ملی تھی اس لیے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس طرح سپاہی صفدر حسین ضلعی پولیس افسر کے کنٹرول روم میں ٹیلیفون آپریٹر ہیں۔ ہنگامہ آرائی کے دوران تین روز تک وہ گھر نہیں آسکے تھے مگر جب واپس آئے تو ان پر بھی انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت مقدمہ دائر ہو چکا تھا۔ صفدر حسین کا کہنا ہے کہ’وڈیروں کا دبدبہ ہوگا، پولیس والے ان کے بھائی ہیں وہ ایسے ہی مقدمہ درج نہیں کر سکتے، ضرور کسی کے کہنے پر کیا ہے‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور ہمدردوں کے ساتھ صحافیوں کو بھی ان مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سندھ بھر میں بیس سے زائد صحافیوں پر مقدمات دائر ہیں۔ خیرپور کے شہر بوذدار وڈا کے پانچ صحافیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے یونین کاؤنسل بوذدار وڈا کے دفتر کو نذر آتش کیا۔

 سندھ بھر میں ہر پولیس رینج میں ڈی آئی جی کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں ہیں جو ان مقدمات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اگر کسی کو بے قصور ملوث کیا گیا ہوگا تو اس کا نام خارج کر دیا جائےگا۔
 
بریگیڈیئر اختر ضامن

ایک صحافی لطیف سوڈڑو کا کہنا ہے کہ ’بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد جو توڑ پھوڑ ہوئی ہم نے اس کی ویڈیو بنائی اور تصاویر کھینچیں۔ یونین کونسل کے ناظم نے کہا کہ یہ تصاویر ان کے حوالے کی جائیں تاکہ وہ ان کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرسکیں مگر صحافیوں نے انکار کیا اور بتایا کہ وہ تصاویر اداروں کو بھیج دی گئی ہیں جس پر ناراض ہوکر انہوں نے مقدمہ دائر کرایا ہے‘۔

محکمہ داخلہ کے نگران وزیر بریگیڈئر اختر ضامن ان مقدمات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سیاسی جماعتوں نے بھی ایسی کوئی تحریری شکایت بھی نہیں کی ہے ایسی غلطی ہونی نہیں چاہیے اگر ہوئی ہے تو اس پر نظر ثانی کی جائےگی‘۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’سندھ بھر میں ہر پولیس رینج میں ڈی آئی جی کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں ہیں جو ان مقدمات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اگر کسی کو بے قصور ملوث کیا گیا ہے تو اس کا نام خارج کر دیا جائےگا‘۔

واضح رہے کہ یہ مقدمات زیادہ تر ان اضلاع میں دائر کیے گئے ہیں جہاں ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریت حاصل کرتی رہی ہے۔

 
 
سندھ میں ہنگامے
کیا لسانی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا؟
 
 
اسی بارے میں
تجارتی سرگرمیاں ابھی تک معطل
31 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد