BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 February, 2008, 19:32 GMT 00:32 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
لاہور ہائی کورٹ کے تاریخی انتخابات
 

 
 
انور کمال
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سو سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی صدر نے اپنے حریف پر اتنی بڑی سبقت حاصل کی ہے
پاکستان کی سب سے بڑی بار ایسوسی ایشن لاہور ہائی کورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں ممتاز قانون داں انور کمال ریکارڈ ووٹوں سےصدر منتخب ہوئے ہیں۔ نو منتخب صدر کا تعلق سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان کی قیادت میں قائم پروفیشنل گروپ سے ہے۔

انور کمال نےاپنے مد مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سردار لطیف احمد خان کھوسہ کے امیدوار اور پاکستان بار کونسل کے رکن پرویز عنایت ملک کو شکست دی۔

انور کمال لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سو سالہ تاریخ میں پہلے صدر ہیں جنہوں نے اپنے مد مقابل امیدوار پر دو ہزار چار سو انتالیس ووٹوں سے برتری حاصل کی ہے۔ نومنتخب صدر کو سپریم کورٹ بار کے نظر بند صدر اعتزاز احسن کی بھی حمایت حاصل تھی۔

انور کمال نے تین ہزار پانچ سو سات ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل پرویز عنایت ملک کو ایک ہزار اڑسٹھ ووٹ ملے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری کے عہدے پر مسلم لیگ نواز کے نو منتخب رکن پنجاب اسمبلی کے رانا مشہود احمد خان کے بھائی رانا اسد اللہ خان بھی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔

بار کی نائب صدارت پر میاں اسلم اور فنانس سیکرٹری کے عہدے پر سیدہ فیروزہ رباب منتحب ہوئیں۔

یہ وکلاء تحریک کی کامیابی ہے
 یہ میری نہیں بلکہ وکلاء تحریک کی کامیابی ہے اور یہ معزول ججوں کی بحالی تک جاری رہے گی
 

نومنتخب فنانس سیکرٹری سیدہ فیروزہ رباب نے گزشتہ برس جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے منصب سے ہٹائے جانے پر لاہور سے اسلام آباد تک پیدل سفر کیا تھااور وکلاء کی حالیہ تحریک میں اپنے پرجوش نعروں کی وجہ سے مقبولیت حاصل کی۔

لاہور ہائی کورٹ بار کے سالانہ انتخابات کے لیے پنجاب بھر سے وکلاء نے اپنے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

نومنتخب صدر انور کمال نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ان کی نہیں بلکہ وکلاء تحریک کی کامیابی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وکلاء کی تحریک معزول ججوں کی بحالی تک جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ گروپ کے امیدوار احسن بھون بھاری اکثریت سے ہائی کورٹ بار کے صدر کامیاب ہوئے تھے تاہم احسن بھون وکلاء تحریک کے دوران اپنے عہدے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج بن گئے۔

 
 
اسی بارے میں
احتجاجی وکلاء کےمقدمےخارج
20 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد