|
کرم ایجنسی میں امدادی کام متاثر
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں کام کرنے والی بین الاقوامی امدادی تنظیم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ وہاں جاری کشیدہ صورتحال
سے متاثرین اور عام آبادی کو طبی امداد فراہم کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
دریں اثناء کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تازہ جھڑپوں میں تین افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے ہیں۔ میڈیسنز سانز فرنٹیئر یا ایم ایس ایف کے پاکستان میں سربراہ کرس لوک ایر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تنظیم حالات کی خرابی سے قبل وہاں عورتوں اور بچوں کو طبی امداد فراہم کرتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس لڑائی کے آغاز کے بعد سے مریضوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی آئی ہے۔ ’سکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے صرف بہت زیادہ تشویشناک مریض ہی طبی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر پاتے ہیں۔‘ ایم ایس ایف کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار سات میں ماہانہ اٹھارہ سو تک مریضوں کا علاج کیا گیا تاہم یہ تعداد کم ہو کر اس سال چھ سو مریضوں تک پہنچ گئی ہے۔ کرم ایجنسی میں گزشتہ چند ماہ کے دوران محفوظ آمدو رفت بھی ممکن نہیں رہی۔
کرس لوک ایر کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے منصوبوں کو جاری رکھنے کے لیے بنیادی ادویات بھی فراہم کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ ’عملے کی نقل و حرکت بھی انتہائی غیرمحفوظ ہے۔ ایک کلینک کو ہم چار ماہ سے کوئی سامان نہیں بھیج سکے ہیں۔ وہاں لوگوں کو طبی امداد کی اشد ضرورت ہے مگر ہم ان تک نہیں پہنچ پا رہے۔‘ کرم ایجنسی میں حالیہ فرقہ وارانہ جھڑپوں میں اگرچہ ہسپتالوں کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا تاہم ایک آدھ مارٹر ایک ہسپتال پر گرا جبکہ کئی ایمبولینسوں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ کرم ایجنسی میں ایم ایس ایف کے اہلکار مختار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ طبی سامان نہ پہنچنے سے مریضوں کے علاج میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑائی کی وجہ سے قے اور دست کی بیماری بھی علاقے میں پھیل گئی ہے۔ ’کچھ راستے بند ہیں اور کچھ انتظامی مسائل ہیں جن کی وجہ سے ادویات اور دیگر سامان نہیں پہنچ رہے۔ ہم اپنے محدود وسائل کے مطابق بیماروں اور زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں لیکن ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔‘ ایم ایس ایف واحد بین الاقوامی امدادی تنظیم ہے جوکہ صدہ اور علیزئی میں مقامی آبادی کی رضامندی سے سرگرم ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ مناسب طبی امداد نہ ملنے سے علاقے میں ایک بڑا بحران سامنے آسکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے کرم میں فریقین کو بار بار لڑائی بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن اس کا بظاہر کم ہی اثر ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں
کرم ایجنسی: فرقہ وارانہ جھڑپیں جاری09 April, 2008 | پاکستان
قیام امن میں ناکامی پر جرگہ گرفتار20 May, 2008 | پاکستان
کرم ایجنسی میں آٹھ افراد ہلاک19 June, 2008 | پاکستان
کرم کے بہتر حالات کے لیے مظاہرہ23 June, 2008 | پاکستان
کُرم: ’ہلاکتیں، گھر نذر آتش‘10 August, 2008 | پاکستان
کُرم: فرقہ وارانہ تشدد، 26 ہلاک13 August, 2008 | پاکستان
کُرم:جھڑپیں جاری، مزید آٹھ ہلاک14 August, 2008 | پاکستان
کرم ایجنسی میں فسادات کیوں؟17 August, 2008 | پاکستان
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||