BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 December, 2008, 22:12 GMT 03:12 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
لشکر کے کیمپ کے خلاف کارروائی
 

 
 
جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید ہیں جو پہلے لشکر کے سربراہ تھے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے کالعدم لشکر طیبہ کے ایک مبینہ کیمپ پر چھاپہ مارا ہے۔

ہندوستان کا الزام ہے کہ ممبئی کے حملوں میں لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا اور یہ کہ اس کا ایک کارکن ممبئی پولیس کی تحویل میں ہے۔ ان حملوں کے بعد سے پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کرے۔

کشمیر میں جماعتہ الدعوۃ کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ کیمپ پر کارروائی ہوئی ہے لیکن انہیں فی الحال اس کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ سکیورٹی فورسز بھی اس بارے میں کچھ کہنے سے گریز کر رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے کیمپ میں موجود اہلکاروں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ جبکہ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں ایک اہم شخص بھی شامل ہوا ہے۔

تاہم سینیئر حکومتی اہلکاروں نے گرفتاریوں کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار بعد دو پہر سکیورٹی فورسز نے مظفرآباد کے نواح میں شوائی کے علاقے کا محاصرہ کیا۔

یہ علاقہ مظفرآباد سے تقریباً پانچ کلومیڑ کے فاصلے پر ہے اور عام تاثر یہی ہے کہ وہاں مبینہ طور پر کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کا کیمپ ہے۔

عینی شاہد نے کہا کہ انہوں نے وہاں ایک ہیلی کاپڑ کو بھی اترتے دیکھا اور کئی دھماکوں کی آوازیں سنیں۔

جماعتہ الدعوۃ کمپلیکس
ماضی میں الزام لگتا رہا ہے کہ مریدکے کےاس کمپلیکس میں شدت پسندوں کو تربیت دی جاتی تھی

دو دیگر صحافیوں کے ہمراہ وہاں پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں جانے کی اجازت نہیں۔

واپس لوٹتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی ایک درجن گاڑیاں شہر کی طرف آتی نظر آئیں۔

مظفر آباد میں حکام سے رابط کیا تو انہوں نے کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا۔

یاد رہے کہ اتوار کو سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ ’میرے خیال میں اس میں کوئی شک نہیں کہ (حملوں کے لیے) پاکستان کا علاقہ استعمال ہوا ہے۔‘

سن دو ہزار دو میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد امریکہ نے لشکر طیبہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا اور پھر پاکستان نے بھی اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

بھارت نے پارلیمان پر حملے کی ذمہ داری لشکر طیبہ اور جیش محمد پر عائد کی تھی۔ اس دوران اس وقت کے لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید نےجماعتہ الدعوۃ کے نام سے نئی تنطیم قائم کر لی تھی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ جماعت الدعوۃ کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ ان کی جماعت پاکستان میں مذہبی اور فلاحی کاموں میں سرگرم ہے۔

 
 
تاج ہوٹل(فائل فوٹو) وڈیو اور تصاویر
ممبئی میں حملے کی تصاویر اور وڈیو جھلکیاں
 
 
حملہ آور حملہ آوروں کی دلیری
حملہ آوروں کی دلیری حیران کن : عینی شاہدین
 
 
 مارک ٹلی مارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
 
 
حملہ آور صرف شہرت کے لیے؟
کیا حملہ آوروں کو صرف شہرت کی تلاش تھی؟
 
 
ممبئی: کب کیا ہوا
ممبئی میں حملے، کب کیا ہوا؟
 
 
اسی بارے میں
’جہاد پر بات کرنے سے گریز‘
04 December, 2008 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد