BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’پاکستان میں اقلیت ہونا جرم؟‘
 

 
 
ہزارہ
تنظیم نے ہزارہ کمیونٹی کے خلاف کوئٹہ میں جاری تشدد کی تفصیلات بھی شائع کی ہیں
امریکہ میں رہنے والی پاکستانی ہزارہ کمیونٹی نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بسنے والے ہزارہ افراد کے خلاف بڑھتے ہوئے پر تشدد واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نیویارک میں رہنے والی پاکستانی ہزارہ کمیونٹی کی ایک تنظیم کی طرف سے ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ مذہبی دہشتگردوں نے کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کی شخصیات و افراد کے خلاف قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے اور بلوچستان حکومت خاموش تماشائي بنی ہوئي ہے۔

نیویارک سے شائع ہونیوالے ایک اخبار نے ہزارہ کمیونٹی کی اس تنظیم کی جانب سے ہزارہ کمیونٹی کے خلاف کوئٹہ میں جاری تشدد کی تفصیلات بھی شائع کی ہیں۔

اس تنظیم کے بقول دو ہزار نو کے فقط دو ماہ میں اب تک ہزارہ کمیونٹی کے چار اراکین کو قتل کیا گیا ہے جن میں پولیس افسر ڈی ایس پی حسن علی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین حسین علی یوسفی بھی شامل ہیں۔

تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ بلوچستان حکومت نہ فقط خاموش تماشائي بنی ہوئي ہے بلکہ انہی مبینہ طور پر ان واقعات کے پیچھے دو سرکردہ ملزمان انتہائي مشکوک انداز سے حکومتی تحویل سے فرار ہو گئے۔

ہزارہ تنظیم نے بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ٹارگٹ کلنگ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ دو ہزار تین میں ہزارہ کیڈٹس پر حملہ کیا گیا جس میں بارہ نوجوان ہلاک ہوئے۔

 بلوچستان حکومت نہ فقط خاموش تماشائي بنی ہوئي ہے بلکہ انہی مبینہ طور پر ان واقعات کے پیچھے دو سرکردہ ملزمان انتہائي مشکوک انداز سے حکومتی تحویل سے فرار ہو گئے۔
 
ہزارہ تنظیم

سال دو ہزار چار میں عاشورہ کے دن جلوس پر حملہ کر کے ساٹھ افراد کو ہلاک کیا گیا جبکہ دو ہزار آٹھ میں کرکٹ کھیلتے نوجوانوں پر حملہ کرکے چار کو ہلاک کیا گیا۔

اس تنظیم نے کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے خلاف پرتشدد واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کا الزام شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی پر لگایا ہے اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث افراد کو فوری گرفتار کر کے ہزارہ کمیونٹی کے افراد کے تحفظ کا خاطر خواہ بندوبست کیا جائے۔

تنظیم نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پاکستان میں اقلیت ہونا جرم ہے؟ کیا پاکستان میں جمہوریت کا ان کے لیے یہی تمغہ ہے؟

 
 
اسی بارے میں
سوات، پی پی رکن سمیت چار قتل
12 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد