کشیدگی کے باوجود تعلقات برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں ملکوں کے درمیان پہلے بھی حالات کشیدہ رہ چکے ہیں

بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کے باوجود گزشتہ سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد قائم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں جو اقدامات کیے گئے تھے وہ اب بھی قائم ہیں۔

بس اور ٹرین سروسز

بھارت اور پاکستان کے درمیان بس سروس فروری 1999 میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے دہلی اور لاہور کے درمیان شروع کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دونوں ملکوں کے درمیان بس سروس ابھی تک جاری ہے

دونوں ممالک کے درمیان شروع ہونے والی یہ بس سروس ابھی تک جاری ہیں۔ اپریل 2005 میں اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان ’ کارواں امن' بس سروس کو ہری جھنڈی دکھائی تھی، جنوری 2006 میں دونوں ممالک کے صوبہ پنجاب کے درمیان لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے امرتسر سے لاہور جانے والی 'دوستی' بس سروس شروع کی گئی، جون 2006 میں کنٹرول لائن کو پار کرنے کے لیے بس سروس بھی شروع کی گئی اس کے علاوہ مارچ 2006 میں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کی جنم بھومی ننکانہ صاحب سے بھارت کے امرتسر شہر تک بس سروس شروع کی گئی۔

ریل خدمات 1976 کے شملہ معاہدے کے تحت دہلی اور لاہور کے درمیان 'سمجھوتہ ایکسپریس' شروع کی گئی یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی ریل سروس ہے۔ اس کے 30 سال بعد سال 2006 میں جودھپور سے کراچی جانے والی 'تھر ایکسپریس' شروع کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sam panthaky
Image caption گجرات سے ٹماٹر درآمد کیے جاتے ہیں

تجارت

گجرات سے پاکستان کو برآمد کئے جانے والے ٹماٹر کاروبار 1996 میں بھارت نے پاکستان کو 'موسٹ فیورڈ نیشن' کا درجہ دیا۔

سال 2012 میں پاکستان نے بھارت کو یہی درجہ دینے کی بات کہی لیکن اس کے لیے ضروری قدم نہیں اٹھائے نتیجہ یہ کہ اب تک بھارت کو یہ درجہ نہیں دیا گیا۔

2012 میں بھارت کی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی. اس عہد نامہ میں دفاع، خلا اور ایٹمی شعبے شامل نہیں ہیں۔

2007 میں ہندوستان نے ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کے ساتھ ایک گیس پائپ لائن کے لیے اربوں ڈالر کا معاہدہ کیا۔ گزشتہ سال اس 'ٹرانس افغانستان پائپ لائن' کی تعمیر شروع ہو گئی۔ اس سے آنے والی گیس بھارت اور پاکستان دونوں ہی استعمال کریں گے۔

2007 اور 2008 میں دونوں ممالک نے طے کیا کہ واہگہ_ اٹاری، سرینگر_مظفر آباد اور پونچھ_ راولكوٹ کے سڑک راستے اور كھوكراپار_مناباؤ کے ریل راستے سے تجارت کی جائِ گی۔ اس میں 21 چیزوں کی خرید فروخت کی اجازت دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ jaipal singh
Image caption گزشتہ سالوں میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں

سکیورٹی

بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کے جوہری ٹھکانوں پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ اس کے تحت 1992 سے اب تک دونوں ملک ہر سال کی پہلی تاریخ کو اپنے یہاں قائم ان ٹھکانوں کی معلومات ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ 2001 میں ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد آخرکار 2003 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان باضابطہ طور پر جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان ہاٹ لائن بھی قائم کی گئی ہیں جو سرحد پار جھڑپوں اور آبی سرحد کی خلاف ورزی ہونے جیسی معلومات فوراً ایک دوسرے کو دینے کے مقصد سے بنائی گئیں ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ سالوں میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bhaskar solanki
Image caption مشکل وقت میں دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں

امداد

2010 میں پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے بھارت نے ڈھائی کروڑ امریکی ڈالر کی امداد کی۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی جیلوں میں بند اپنے ملک کے شہریوں کی فہرست بھی ہر سال کی پہلی تاریخ کو ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ ان قیدیوں کے علاوہ آبی سرحد کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں گرفتار کیے جانے والے ماہی گیروں کی رہائی بھی کی جاتی ہے۔

مختلف معاہدوں کے تحت تاجروں، ڈاکٹروں، اساتذہ اور سیاحوں کو آسان شرائط پر ویزے دینے کے فیصلے کیے گئے لیکن ویزا ملنے میں دقتیں عام ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوسف رضا گیلانی دونوں ملکوں کے کرکٹ سیمی فائنل کے لیے موہالی گئے تھے

کرکٹ

بھارت اور پاکستان کے عوام کا پسندیدہ کھیل کرکٹ ہے لیکن اس وقت دونوں ممالک کی ٹیمیں ایک دوسرے کے ملک میں نہیں کھیل رہیں۔

تعلقات بہتر کرنے کی ایک پہل کے تحت سال 2011 میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی موہالی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلے جا رہے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل دیکھنے آئے تھے۔

2012اور تیرہ میں آخری بار پاکستانی ٹیم بھارت میں تین ایک روزہ اور دو ٹوئنٹی_ٹوئنٹی میچ کھیلنے آئی تھی اس کے بعد سے وہ بین الاقوامی سطح پر عالمی کپ وغیرہ کے لیے دیگر ممالک میں ہی میچ کھیلتے رہے ہیں۔